اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):پاکستان کے بیرونی مالیاتی اشاریوں میں بہتری کا مثبت رجحان جاری ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ حکومتی پالیسیوں بالخصوص ایس آئی ایف سی کی معاونت اور معاشی استحکام کے اقدامات کے باعث معیشت میں اعتماد بحال ہو رہا ہے۔مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان نے فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر …
پاکستان کے بیرونی مالیاتی اشاریوں میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):پاکستان کے بیرونی مالیاتی اشاریوں میں بہتری کا مثبت رجحان جاری ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ حکومتی پالیسیوں بالخصوص ایس آئی ایف سی کی معاونت اور معاشی استحکام کے اقدامات کے باعث معیشت میں اعتماد بحال ہو رہا ہے۔مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان نے فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو مارچ 2025 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ یہ مسلسل دوسرا ماہانہ سرپلس ہے، اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی 60 ملین ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کی بڑی وجوہات میں ترسیلات زر میں اضافہ، ویلیو ایڈڈ برآمدات کا فروغ اور درآمدات میں نظم و ضبط شامل ہیں۔
ان اقدامات کے باعث نہ صرف بیرونی مالیاتی شعبہ مستحکم ہو رہا ہے بلکہ ملک پر بیرونی دباؤ میں بھی نمایاں کمی آ رہی ہے۔مشیر وزیر خزانہ کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو پاکستان کے بیرونی اور تجارتی کھاتوں کو مضبوط سہارا فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس آئی ایف سی نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ایک مؤثر اور آسان پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس سے سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق علاقائی اور عالمی چیلنجز کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کا مستحکم رہنا پاکستان کی پائیدار معاشی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔








