پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر افغان ناظم الامور کو ڈی مارش

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو گزشتہ روز طلب کر کے 16 فروری کو باجوڑ میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے حوالے سے افغان عبوری حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ (ڈی مارش) پہنچایا، اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے۔ جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے باجوڑ میں …

اسلام آباد۔19فروری (اے پی پی):دفترِ خارجہ نے اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو گزشتہ روز طلب کر کے 16 فروری کو باجوڑ میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے حوالے سے افغان عبوری حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ (ڈی مارش) پہنچایا، اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے۔

جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے باجوڑ میں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملے جس کے بعد مسلح فائرنگ کی کارروائی بھی کی گئی، کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، یہ حملہ فتنہ الخوارج / تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیا گیا۔

دفتر خارجہ نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ فتنہ الخوارج /ٹی ٹی پی جس کی قیادت افغانستان میں موجود ہے، افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرمِ عمل ہے۔اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو افغان عبوری حکومت کی جانب سے متعدد مواقع پر یقین دہانیاں موصول ہوئیں تاہم ان کے باوجود کوئی نمایاں، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔

افغان عبوری حکومت کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات یقینی بنائے۔مزید برآں، افغان عبوری حکومت کو دو ٹوک انداز میں مطلع کیا گیا کہ پاکستان اپنے فوجیوں، شہریوں اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فتنہ الخوارج (ایف اے کے) سے وابستہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جہاں کہیں بھی وہ موجود ہوں، کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔