نیویارک ۔ 3 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا موقف یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ممکنہ طور پراضافہ کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ یہ بات ان کے ترجمان نے بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی بار بار خلاف ورزیوں بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ نیویارک میں ایک ورچوئل نیوز بریفنگ میں ترجمان …
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بارے سیکرٹری جنرل کو ارسال کردہ خط اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو بھیج دیا گیا ہے، ترجمان سٹیفن دجارک

مزید خبریں
نیویارک ۔ 3 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا موقف یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ممکنہ طور پراضافہ کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کیا جائے۔ یہ بات ان کے ترجمان نے بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی بار بار خلاف ورزیوں بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ نیویارک میں ایک ورچوئل نیوز بریفنگ میں ترجمان سٹیفن دجارک نے اے پی پی کے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ سیکرٹری جنرل کا بنیادی پیغام ہمیشہ اور ہر فریق کے لئے یہ ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ کرنے والے کسی بھی اقدام سے گریز کرے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اقوام متحدہ کے سربراہ سے حالیہ رابطوں جن میں ان کو مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال، بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی سنگین خلاف ورزیوں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانے والے دیگر اقدامات سے آگاہ کیا گیا بارے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریشن نے گذشتہ ہفتے بات چیت کی تھی اور ان کا ارسال کردہ ایک خط اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو بھیج دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا 21 مئی کا خط متنازعہ خطے میں عالمی برادری کو موجودہ صورتحال خاص طور پربھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیرمیں مسلم اکثریت کواقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش سے آگاہ رکھنے کے لئے پاکستان کی مستقل سیاسی اور سفارتی کوششوں کا حصہ ہے جس میں انہوں نے ‘دراندازیوں’ کے نام نہاد ‘لانچ پیڈ’ کے بھارتی الزامات کو بھی مسترد کیا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گرو پ کو بھارتی دعووں کی سچائی کی تصدیق کرنے کے لئے مبینہ مقامات کا دورہ کرانے کی پیش کش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا اصل مقصد ایک ‘جھوٹے فلیگ آپریشن’ کا بہانہ بنانا ہے۔








