پاکستان کے ہاتھ سے بنے فرنیچر کی عالمی مارکیٹ خاص طور پر امریکا اور مشرق وسطیٰ میں بہت زیادہ مانگ ہے، میاں کاشف اشفاق

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے فرنیچر کی عالمی مارکیٹ خاص طور پر امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ جمعرات کو یہاں اریب آرایئں کی قیادت میں فرنیچر مینوفیکچررز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر اپنی ثقافتی جھلک کی وجہ سے غیر ملکیوں اور …

اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہاتھ سے بنے فرنیچر کی عالمی مارکیٹ خاص طور پر امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں بہت زیادہ مانگ ہے۔ جمعرات کو یہاں اریب آرایئں کی قیادت میں فرنیچر مینوفیکچررز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر اپنی ثقافتی جھلک کی وجہ سے غیر ملکیوں اور سیاحوں کو بہت زیادہ راغب کرتا ہے۔یہ پاکستان کے فنی و ثقافتی ورثے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے اور ثقافتی تبادلے کا ایک طریقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے تراشیدہ فرنیچر کی تعداد نہیں بلکہ معیار اہمیت کا حامل ہے اس میں اکثر مقامی میٹیریل استعمال ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر پیداوار سے منسلک ماحولیاتی اثرات کو کم کرتا ہے۔ اس کی ہر تخلیق آرٹ کا نمونہ ہے جو پاکستانی ثقافت کے جوہر کو اپنے اندر محفوظ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہاتھ سے تیار کردہ فرنیچر خطے کے ثقافتی ورثے اور دستکاری کی مہارت کی عکاسی کرتا ہے جو غیر ملکی خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لکڑی کے ان ٹکڑوں میں پنہاں پیچیدہ ڈیزائن اور نقوش ملکی تاریخ، روایات اور کاریگروں کی ہنر مندی کے عکاس ہیں۔

مزید خبریں