پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی
پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اگست (اے پی پی):پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک نے یوم آزادی پرمعاشی استحکام کی سمت جاری پیش رفت اور اصلاحات کےتسلسل کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ یوم آزادی کے موقع پر جمعہ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق قیمتوں کے استحکام کی پیش رفتوں کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے تجزیے کے مطابق موجودہ زری پالیسی مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے وسط مدتی ہدف تک رکھنے کے لیے موزوں ہے، اور اس نے معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق کے لیے مناسب گنجائش فراہم کی ہے۔گورنر نے کہا کہ فراستی مالیاتی اور زری پالیسیوں سے بھی معاشی ترقی کو اعانت ملی ہے، جو مالی سال 26ء میں 3.7 فیصد رہی۔ مالی سال 27ء میں معاشی نمو کے 3.5 تا 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا علامت ہے کہ معیشت استحکام کی مدت کے بعد اب پائیدار معاشی نمو کی سمت پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔بیرونی شعبے میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو مالی سال 2026 میں 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں اور توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ ترسیلاتِ زر میں اضافے اور جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آرہی ہے، جو مالی سال 2026 کے اختتام تک 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2027 کے دوران امید ہے کہ زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاکستان کے مالی نظام کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے گذشتہ ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرزم پلس (PRISM+) کا کامیاب آغاز ملک کے ادائیگیوں کے انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیارات کے قریب تر لے آیا ہے، جس کے باعث بڑی مالیت کی ادائیگیوں اور چکتائیوں کا عمل تیز، محفوظ اور زیادہ مؤثر ہوگیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات کے نتیجے میں ڈجیٹل ذرائع کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور گذشتہ ایک سال کے دوران ریٹیل ڈجیٹل لین دین کی تعداد تقریباً 10 ارب سے بڑھ کر 12 ارب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈجیٹل ادائیگیوں میں یہ اضافہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ زیادہ دستاویزی، شفاف اور مستعد معیشت کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔مالی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کو رسمی مالی نظام تک رسائی حاصل ہو۔ اس ضمن میں ، اسٹیٹ بینک نے عوام کے لیے باسہولت، محفوظ اور شفاف سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ’انویسٹ پاک‘(InvestPak) کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے اسلامی بینکاری، گرین فنانسنگ، سائبر سیکورٹی اور مالی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے سلسلے میں جاری کوششوں کو بھی اجاگر کیا ، جن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستان کا مالی نظام محفوظ، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے اس بات پر زور دیا کہ کے آزادی کے حقیقی جذبے کو قائم رکھنے کے لیے معاشی خود انحصاری، مضبوط اداروں ، قانون کی پاسداری اور قومی اتحاد کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسٹیٹ بینک نے گذشتہ برس میں نمایاں کامیابی حاصل کی، تاہم چیلنجز اب بھی موجود ہیں، جن کے لیے انتھک محنت، عزم اور حوصلہ درکار ہے۔ مستقبل کے حوالے سے گورنر بینک دولت پاکستان جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی توجہ قیمتوں کے استحکام، پالیسی اصلاحات، اور بلند پیداواریت، برآمدات کی نمو، اور روزگار پیدا کرنے کے لیے سازگار اقتصادی ماحول بنانے پر مرکوز رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ترجیحات معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے اور ایک مضبوط اور زیادہ خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کے افسران اور ملازمین کی محنت، عزم اور پیشہ ورانہ لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال کے دوران حاصل ہونے والی کامیابی اِن کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ تقریب کا اختتام اسٹیٹ بینک کی جانب سے اس عزم کے اعادے کے ساتھ ہواکہ پائیدار اقتصادی ترقی، مالی استحکام اور پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے مرکزی بینک اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔







