پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس، پٹرولیم ڈویژن کے 24 ۔ 2023 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں سید نوید قمر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کے 24 ۔ 2023 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ 23 ۔ 2022 میں پٹرولیم لیوی اور ایل پی ایس کی …

اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں سید نوید قمر کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کے 24 ۔ 2023 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ 23 ۔ 2022 میں پٹرولیم لیوی اور ایل پی ایس کی مد میں 14631 ملین روپے کی ریکوری نہیں کی گئی ۔

سید نوید قمر نے کہا کہ یہ تو ایف بی آر سے متعلقہ معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے میں اس معاملہ پر چیئرمین ایف بی آر کو ذاتی حیثیت میں بلائوں گا ۔ وزارت خزانہ کو بتایا گیا کہ یہ کائونٹنگ کی غفلت تھی اور رقم غلط ہیڈ میں چلی گئی۔

پی اے سی کے استفسار پر آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اس پر اور کچھ نہیں ہو سکتا اس معاملہ کو ایسے ہی نمٹانا ہوگا ۔ سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ رقم ماہانہ بنیاد پر جمع ہو رہی ہے اور بینک گارنٹی بھی موجود ہے، اس کے علاوہ ہر ماہ کے لئے الگ الگ 48 چیک بھی دیئے گئے ہیں ۔ پی اے سی نے ہدایت کی جب تک پوری رقم کی ریکوری نہیں ہوجاتی یہ ایجنڈے پر موجود رہے گا اور اس کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی ۔

پی اے سی کے استفسار پر پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ لیوی کا حجم 1.4 ٹریلین روپے ہے ۔ سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی وصولی کے لئے قانون سخت کرے۔وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سیکرٹری پٹرولیم اس حوالے سے مسئلہ کی نشاندی کریں تو حکومت حل کرے گی ۔