اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کے کنوینر سید نویدقمر کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے 2016.17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ پی ا ےسی نے عدالتوں میں زیر التوا کیسوں کے جلد فیصلے نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ای سی پی سی سے متعلق زیر التوا کیسز …
پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ، ایس ایم ای بینک اور زرعی بینک کی کارکردگی پر تشویش کااظہار

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کے کنوینر سید نویدقمر کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے 2016.17 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ پی ا ےسی نے عدالتوں میں زیر التوا کیسوں کے جلد فیصلے نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ای سی پی سی سے متعلق زیر التوا کیسز کا کئی سالوں سے فیصلہ نہیں ہو سکا ، اس کا جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔ سیکرٹری خزانہ کامران رسول نے کہا کہ یہ مسئلہ اہم ہے۔ اٹارنی جنرل سمیت اعلیٰ فورمز پر بھی ہم اٹھا چکے ہیں۔ مسابقتی کمیشن کے چیئرپرسن نے کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹی کو خود مختار اور بااختیار عملی طور پر بنایا جائے جو اربوں کے کیسز زیر سماعت ہیں۔ ان کے بارے میں فیصلہ ہونا بہت ضروری ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ پیمرا اور نیپرا سمیت تمام ریگولیٹری اتھارٹیز کے حوالے سے پی اے سی ہدایات جاری کرے۔ مسابقتی کمیشن کے چیئرپرسن نے کہا کہ 5 ارب سے زائد کے کیسز اس وقت حل طلب ہیں۔ سید نویدقمر نے کہا کہ وزارتیں مل کر مسئلہ کے حل نکالیں ، ایک ماہ میں اگر معاملہ حل نہیں ہوتا تو پھر تمام ریگولیٹری اتھارٹیز کے سربراہا ن کو بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹیز کو مالی طور پر بھی بااختیار ہونا چاہیے۔ ریلوے سے متعلق آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے دوران سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ ریلوے مالی بحرا ن کا شکار ہے ۔ ان کو ہر سال 40 ارب روپے دیئے جاتے ہیں۔ ریلوے کے واجبات کی ایٹ سورس کٹوتی نہیں کی جا سکتی۔ کورونا کی وجہ سے ریلوے کا آپریشن مشکلات کا شکار ہے۔ پی اے سی نے ریلوے کے ذمے ایس ای سی پی کے واجبات ایٹ سورس کاٹنے کی ہدایت دی ۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ ایس ایم ای بینک کے انتظامی اخراجات 645 ملین تک پہنچ گئے ہیں اور یہ بینک 2296ملین کے خسارے میں جا رہا ہے۔ غیر فعال قرضے 495ملین کے ہیں۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ ایس ایم ای بینک کو نجی شعبے کے حوالے کریں گے ۔ اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔ ایس ایم ای بینک کے حکام نے کہا کہ بینک کے آپریشنل نقصانات اب کم ہو رہے ہیں مگر خسارہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ ایس ایم ای بینک خسارے میں ہے مگر 2016 میں بھی گاڑیاں خریدی گئیں۔ بینک حکام نے کہا کہ معیار برقرار رکھنے کے لئے گاڑیاں خریدی گئیں۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی ہے۔ ایس ایم ای بینک کا معاملہ دیکھوں گا۔ جب سے میں سیکرٹری خزانہ بنا ہوں ۔ ایک پارلیمانی سیکرٹری کے علاوہ کسی کو گاڑی خریدنے کی اجازت نہیں دی۔ زرعی ترقیاتی بینک کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ اسی لئے سٹیٹ بینک نے ان پر جرمانے بڑھا دیئے ہیں۔ زرعی بنک کی طرف سے پی اے سی کو بتایا کہ زرعی بینک کی مالی حالت اچھی نہیں ہے۔ قرضوں کی ریکوری نہیں ہو رہی ہے۔ صدر زرعی بینک نے کہا کہ آپریشنل اخراجات کم کئے ہیں۔ مختلف شعبوں کو تقسیم کیا ہے۔ کئی افسران کے خلاف ونڈو ڈریسنگ کے حوالے سے انکوائری کی جا رہی ہے۔ سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ زرعی بینک کی مایوس کارکردگی کا وزیراعظم نے بھی نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینک کی کارکردگی مانیٹر کرنے کے لئے 3 رکنی ایڈوائزیر کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔








