پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپس، نجکاری پاکستان کی مستقبل کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے، چیئر نجکاری کمیشن

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس (پی پی پیز) اور نجکاری ملک کی مستقبل کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ذریعہ ہیں۔

اسلام آباد۔4ستمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے حوالہ سے مذاکرہ کے انعقاد پر ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا مستقبل سرکاری شعبے کے بجائے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی سے وابستہ ہے۔

نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو واضح معلومات، اعتماد اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار مشیر وزیر اعظم نے جمعہ کو یہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیر اہتمام ” موبیلائیزنگ پرائیویٹ کیپٹل: نیشنل سٹریٹیجک ڈائیلاگ آن پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اینڈ پرائیویٹائزیشن” کے موضوع پر منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کے ساتھ توانائی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور اصلاحات کے مختلف شعبوں میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ اے ڈی بی کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 30 ۔ 2026 میں نجی شعبے کی شمولیت، مالیاتی شمولیت اور جدت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، جو پاکستان کی اپنی معاشی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی دنیا میں متعلقہ اور مسابقتی ملک بننے کے لیے پاکستان کو چار بنیادی ضروریات پر توجہ دینا ہو گی، جن میں انفراسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، انسانی وسائل کی تربیت، انتظامی نظم و ضبط اور جدت شامل ہیں۔چیئرمین نجکاری کمیشن نے کہا کہ دنیا ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، سولر توانائی، ونڈ ٹربائنز، بیٹریز، ڈرونز اور جدید ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے چینی انفراسٹرکچر کی ترقی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جدید ہائی سپیڈ ریل کے باعث طویل فاصلے چند گھنٹوں تک محدود ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی جدید انفراسٹرکچر، بہتر سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، توانائی اور پانی کے نظام میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔مشیر وزیر اعظم محمد علی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی اس وقت تقریباً 230ملین ہے جو 2050 تک بڑھ کر تقریباً 390 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ شہری آبادی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔

اس صورتحال میں ہسپتالوں، سکولوں، توانائی، پانی، سڑکوں، ریلوے اور دیگر شہری سہولیات کی طلب کئی گنا بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اکیلے اتنے بڑے انفراسٹرکچر گیپ کو پورا کرنے کی مالی صلاحیت نہیں رکھتی، اس لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)اور نجکاری کو معاشی ترقی کے اہم ذرائع کے طور پر بروئے کار لانا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں فی کس صحت اور تعلیم پر اخراجات خطے کے کئی ممالک کے مقابلہ میں کم ہیں۔ محدود وسائل میں بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالی ضروریات پوری کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، اس لیے وسائل کے استعمال کے طریقہ کار کو تبدیل کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے تحت ایسے منصوبوں میں صارفین سے مناسب فیس وصول کی جا سکتی ہے جو اپنی لاگت پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جبکہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے حکومت کی جانب سے سبسڈی کا نظام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ نجی شعبہ صرف سرمایہ ہی نہیں بلکہ بہتر انتظام، جدید ٹیکنالوجی، جدت اور مؤثر سروس ڈلیوری بھی فراہم کرتا ہے۔ نجی شعبے کی شمولیت سے ریونیو لیکیج کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 1990 سے اب تک تقریباً 154 پی پی پی منصوبے مالیاتی معاملات کےقریب پہنچ چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 36 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پارٹنر شپ اتھارٹی کا قانونی فریم ورک بھی موجود ہے جبکہ چاروں صوبوں میں بھی اس حوالے سے قوانین اور ادارے قائم ہیں۔محمد علی نے کہا کہ موجودہ پی پی پی پائپ لائن میں تقریباً 38 منصوبے شامل ہیں، جن کا تعلق سڑکوں، ریلوے، ہسپتالوں، ہوابازی، ہوٹلنگ اور صنعتی شعبوں سے ہے، تاہم اس پائپ لائن کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ نجکاری کے شعبے میں اس وقت 27 ٹرانزیکشنز پر کام جاری ہے، جن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، ایئرپورٹس، انشورنس کمپنیاں اور بینک شامل ہیں۔

چیئرمین نجکاری کمیشن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کو ایک پیچیدہ مگر اہم ٹرانزیکشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ثابت ہوا ہے کہ حکومت بڑے سرکاری اثاثوں کی نجکاری کے لیے مؤثر انداز میں ٹرانزیکشنز کو تشکیل دینے، مذاکرات کرنے اور انہیں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ پاور ڈسٹری بیوشن اثاثوں کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے، جس کا مقصد صرف اثاثے فروخت کرنا نہیں بلکہ ملک میں جدید اور مسابقتی پاور سپلائی چین تشکیل دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی اور نجکاری کے منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے قانونی اور پروکیورمنٹ دستاویزات کو معیاری بنانا ضروری ہے۔ ملک میں موجود مختلف پی پی پی اتھارٹیز کے درمیان یکساں طریقہ کار سے منصوبوں کی تیاری اور تکمیل کے وقت اور پیچیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مستقبل کی دنیا میں مؤثر اور مسابقتی مقام حاصل کرنے کے لیے حکومتی اداروں اور وزارتوں کے درمیان مضبوط رابطہ اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہو گی۔مشیر نجکاری نے مالیاتی اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ ملک میں بنیادی انفراسٹرکچر، انسانی وسائل، جدت اور معاشی ترقی کے لیے ضروری سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، نجی شعبے کی شمولیت، پی پی پی، نجکاری اور بہتر انتظامی نظام سے وابستہ ہے۔

مزید خبریں