اُرمچی۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اُرمچی میں اپنے دورۂ سنکیانگ یونیورسٹی کے دوران دونوں ممالک کے سرحدی خطوں میں تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر کے سنکیانگ یونیورسٹی پہنچنے پر یونیورسٹی کی نائب صدر اور پاکستانی طلبہ نے وفاقی وزیر کا پُرتپاک استقبال کیا۔اپنے خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے سنکیانگ یونیورسٹی اور قراقرم …
پروفیسر احسن اقبال کی جانب سے سنکیانگ یونیورسٹی اور قراقرم یونیورسٹی گلگت کے مابین تعلیمی شراکت کی تجویز

مزید خبریں
اُرمچی۔4دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اُرمچی میں اپنے دورۂ سنکیانگ یونیورسٹی کے دوران دونوں ممالک کے سرحدی خطوں میں تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے تجویز پیش کی۔ وفاقی وزیر کے سنکیانگ یونیورسٹی پہنچنے پر یونیورسٹی کی نائب صدر اور پاکستانی طلبہ نے وفاقی وزیر کا پُرتپاک استقبال کیا۔اپنے خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے سنکیانگ یونیورسٹی اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (کے آئی یو ) گلگت کے درمیان باضابطہ تعلیمی و تحقیقی شراکت کے قیام کی تجویز پیش کی۔
اس اشتراک کا مقصد سنکیانگ اور گلگت بلتستان کے سرحدی علاقوں میں علم، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور افرادی وسائل کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔سنکیانگ یونیورسٹی کی نائب صدر نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے مشترکہ تعلیمی و تحقیقی پروگرامز، فیکلٹی ایکسچینج اور اسٹوڈنٹ ریسرچ تعاون کے لیے آئندہ کا مشترکہ فریم ورک تشکیل دینے پر آمادگی ظاہر کی۔وفاقی وزیر کو یونیورسٹی کی تاریخ، فیکلٹی کی صلاحیتوں، تحقیقی سرگرمیوں، صنعتی شراکت داری اور قومی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ تحقیقی فنڈنگ کے ماڈل پر جامع بریفنگ بھی دی گئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ سنکیانگ یونیورسٹی میں تحقیقاتی فنڈنگ کا بڑا حصہ—تقریباً 40 فیصدبراہِ راست صنعت سے حاصل ہوتا ہے،باقی تحقیقاتی معاونت حکومتی ترقیاتی ترجیحات سے جڑی ہے،جو ایک مضبوط اکیڈمیاانڈسٹری انٹیگریشن ماڈل کی عکاسی کرتا ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے اس تحقیقاتی ماڈل کو پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین مؤثر اشتراک نہ صرف خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ پاک–چین دوستی کے نئے پہلو بھی اجاگر کرے گا۔یہ پیش رفت پاک–چین سرحدی خطوں میں تعلیمی تعاون، تحقیقاتی اشتراک اور نوجوانوں کے باہمی روابط کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔








