اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے پروٹیکٹڈ ایریاز کو ترقی دینے کے پروگرام کے تحت تین سالوں میں 15 نیشنل پارکس قائم کئے جائیں گے، ان پارکس سے ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ …
پروٹیکٹڈ ایریاز کو ترقی دینے کے پروگرام کے تحت تین سالوں میں 15 نیشنل پارکس قائم کئے جائیں گے ، وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کی نیشنل پارکس کے منصوبے کے بارے میں میڈیا بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے پروٹیکٹڈ ایریاز کو ترقی دینے کے پروگرام کے تحت تین سالوں میں 15 نیشنل پارکس قائم کئے جائیں گے، ان پارکس سے ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں نیشنل پارکس کے منصوبے کے بارے میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت 9 نئے نیشنل پارکس کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں روزگار کے مواقع، مقامی آبادیوں کی ترقی اور ماحولیات ع جنگلی حیات کا تحفظ یقینی ہو سکے گا۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ پروٹیکٹڈ ایریاز کس تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور قدرتی مسکن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پروٹیکٹڈ ایریاز کس موجودہ رقبہ 12 فیصد ہے اور وزیراعظم نے اسے 15 فیصد تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ملک جنگلات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور اس کے 12 ایکالوجیکل پارکس سسے حیاتیاتی تنوع کے حوالہ سے منفرد ملک بناتے ہیں تاہم اس قدرتی خوبی سے مکمل استفادہ نہیں کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لئے خصوصی فنڈز مختص کئے گئے ہیں جبکہ منصوبے پر عملدرآمد کےلئے صوبوں کو بھی فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ منصوبہ کے تحت ماڈل نیشنل پارکس بنائے جائیں گے جبکہ ایک نیشنل پارکس سروس بھی قائم کی جائے گی۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی آبادیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا, اس طرح ملک میں ایکو ٹورزم کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان نیشنل پارکس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے، خیبر پختونخوا نے ریگولیشنز وضع کر دیئے ہیں جبکہ پنجاب کابینہ نے بھی متعلقہ قوانین کی منظوری دیدی ہے جن کی صوبائی اسمبلی سے بھی منظوری حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر نیشنل پارک کس اپنا کنزرویشن فنڈ ہو گا جبکہ مقامی آبادیوں کو بھی ان پارکس کی حفاظت کےلئے ساتھ شامل کیا جائے گا۔








