پشتو افسانوں کے اردوترجمہ پرمبنی کتاب ”بانجھ“ کے نام سے شائع ہوگئی پشتوافسانوں کا اردوزبان میں ترجمہ نوجوان صحافی، شاعر اورادیب راشدخٹک نے کیا

اسلام آباد ۔ 27 مئی (اے پی پی) پشتو زبان کے ادیب اورمصنف عبدالوکیل سولہ مل شنواری کے پشتو افسانوں کے اردوترجمہ پرمبنی کتاب ”بانجھ“ کے نام سے شائع ہوگئی۔عبدالوکیل سولہ مل شنواری لندن میں مقیم ہیں اوراب تک کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کے پشتوافسانوں کا اردوزبان میں ترجمہ نوجوان صحافی، شاعر اورادیب راشدخٹک نے کیا ہے۔ راشد خٹک اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی زبان کے …

اسلام آباد ۔ 27 مئی (اے پی پی) پشتو زبان کے ادیب اورمصنف عبدالوکیل سولہ مل شنواری کے پشتو افسانوں کے اردوترجمہ پرمبنی کتاب ”بانجھ“ کے نام سے شائع ہوگئی۔عبدالوکیل سولہ مل شنواری لندن میں مقیم ہیں اوراب تک کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کے پشتوافسانوں کا اردوزبان میں ترجمہ نوجوان صحافی، شاعر اورادیب راشدخٹک نے کیا ہے۔ راشد خٹک اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی زبان کے اخبارسے وابستہ ہے اورعملی صحافت کے ساتھ ساتھ ادب، شاعری اورترجمہ کے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کالوہا منوارہے ہیں۔”بانجھ“ سے پہلے پشتوزبان کے مشہورادیب سعدالدین شپون کے ناول کا اردوترجمہ ”یاران غار“ کے نام سے شائع کرچکے ہیں جنہیں ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا۔وہ روسی ادیب میکسم گورکی کے بیس افسانوں کا پشتوترجمہ ”غچ“ کے نام سے چھاپ چکے ہیں۔ان کی پشتوشاعری کے دومجموعے ”ڈیوے“ اور ”سوژوندہ مزل“ بھی منظرعام پر آچکے ہیں، اس کے علاوہ وہ وکیل سولہ مل شنواری ہی کے بعض دوسرے افسانوں کو اردو زبان میں ”پچاس ملین“ اورانگریزی میں ”Fifty Million“ کے نام سے ترجمہ کرچکے ہیں۔