اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) پلاسٹک کا فضلہ آبی کیڑوں سے پرندوں میں منتقل ہو رہا ہے، معروف سائنسی جریدہ "گلوبل چینج بیالوجی" میں شائع حالیہ تحقیق کے مطابق بہت سے پرندے اپنی خوراک کے لیے دریاؤں اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں اور پانی سے پکڑے جانے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے ان کی خوراک ہیں۔ پانی سے خوراک حاصل کرنے والے پرندوں پر حال ہی میں …
پلاسٹک کا فضلہ آبی کیڑوں سے پرندوں میں منتقل ہو رہا ہے، بہت سے پرندے اپنی خوراک کے لیے دریاؤں اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں ،, پانی سے پکڑے جانے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے ان کی خوراک ہیں۔ پانی سے خوراک حاصل کرنے والے پرندوں کے معدے میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات کی موجودگی تجربات سے ثابت ہوگئی ، ماہرین

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 16 جولائی (اے پی پی) پلاسٹک کا فضلہ آبی کیڑوں سے پرندوں میں منتقل ہو رہا ہے، معروف سائنسی جریدہ "گلوبل چینج بیالوجی” میں شائع حالیہ تحقیق کے مطابق بہت سے پرندے اپنی خوراک کے لیے دریاؤں اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں اور پانی سے پکڑے جانے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے ان کی خوراک ہیں۔ پانی سے خوراک حاصل کرنے والے پرندوں پر حال ہی میں کئے گئے تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ ان پرندوں کے معدے میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات موجود ہیں جب کہ وہ زمین کی سطح یا پانی سے براہ راست کچھ بھی نہیں کھاتے۔ برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی اور ایکسٹر یونیورسٹی کی گرین پیس ریسرچ لیبارٹریز کی ایک سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ آبی پرندے پانی سے کیڑے پکڑ کر اپنے گھونسلوں میں بچوں کو کھلاتے ہیں جن کے معدوں میں پلاسٹک کے باریک ذرات بڑی تعداد میں پائے گئے ہیں۔ آبی پرندے اپنی خوراک کے لیے پانی میں پائے جانے والے کیڑوں اور حشرات پر انحصار کرتے ہیں مگر ان کیڑوں کی خوراک میں اب وہ پلاسٹک بھی شامل ہو چکا ہے جو کوڑے کرکٹ کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے اور ندی نالوں میں بہتا ہوا دریاؤں اور سمندروں میں پہنچ جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عمل کے دوران پلاسٹک مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ذرات میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سمندروں سے ایسی مچھلیاں بھی مل رہی ہیں جن کے پیٹ میں بڑی مقدار میں پلاسٹک کے ٹکڑے پائے گئے ہیں۔ سائنس دانوں نے کہا ہے کہ پلاسٹک کا فضلہ آبی حیات کی افزائش اور صحت کے لیے مسلسل ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلی مرتبہ ان پرندوں کے بچوں کے معدے میں بھی پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات مل رہے ہیں جن کے والدین ان کیلئے پانی سے خوراک تلاش کر کے لاتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پانی میں مختلف سائز اور حجم کے لاتعداد کیڑے پائے جاتے ہیں جو مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کے ساتھ ساتھ ان پرندوں کی بھی خوراک بنتے ہیں جو پانی سے حاصل کی جانے والی خوراک پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ محقیقن نے کہا ہے کہ انسان کی لاپرواہی سے پھینکا جانے والا پلاسٹک کا فضلہ نہصرف براہ راست مچھلیوں اور آبی حیات کی خوراک بن کر ان کی نسلوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے بلکہ آبی پرندوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پانچ ملی میٹر سائز کے پلاسٹک ذرات جنہیں مائیکرو فائبر بھی کہا جاتا ہے, ندی نالوں میں بہتے ہوئے دریاؤں یا سمندروں میں پہنچ کر دیگر چیزوں کے ساتھ کیڑوں کی خوراک بن جاتے ہیں جن کو آبی پرندے اپنی خوراک کیلئے شکار کرتے ہیں۔ کارڈف یونیورسٹی کے واٹر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے معاون سربراہ اور تحقیق کے سربراہ پروفیسر سٹیو آرمروڈ نے اس حوالہ سے کہا ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے دریاؤں اور آبی پرندوں پر تحقیق کر رہا ہوں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہماری تحقیق سے ایک روز یہ امر بھی منکشف ہو گا کہ خوبصورت پرندے پلاسٹک کھانے سے خطرات کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ آلودگی کس کس سطح پر ہمیں متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے یہ خوبصورت اور خوش الحان پرندے جن کی خوراک آبی کیڑے ہیں, وہ بھی ہماری پھیلائی ہوئی آلودگی سے محفوظ نہیں رہے۔ ہم گزشتہ کئی عشروں سے بلا سوچے سمجھے پلاسٹک کی آلودگی بڑی تیزی سے پھیلا رہے ہیں۔ کارڈف یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم کو پلاسٹک کے یہ ذرات ان 166 نمونوں سے ملے ہیں جو 15 مقامات سے حاصل کئے گئے تھے. رپورٹ کے مطابق 14 مقامات سے حاصل کردہ نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک موجود تھا اور یہ مقامات شہری آبادیوں کے قریب تھے۔ اس سے قبل کارڈیف یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ ساؤتھ ویلز کے دریاؤں میں پائے جانے والے کیڑوں میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات موجود ہیں۔ تحقیق میں شریک ایکسٹر یونیورسٹی کی گرین پیس لیبارٹریز کے ریسرچ فیلو ڈاکٹر ڈیوڈ سانٹیلو نے کہا ہے کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پانی سے کیڑے پکڑ کر کھانے والے آبی پرندوں میں روزانہ مائیکرو پلاسٹک کے تقریباً 200 ذرات منتقل ہو رہے ہیں اور جو ذرات ملے ہیں ان میں سے 75 فی صد کی لمبائی پانچ ملی میٹر تک تھی جب کہ باقی ذرات کی لمبائی اس سے زیادہ تھی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ پلاسٹک کے یہ ذرات، پولیسٹر، نائیلون اور پولی پروپلین پر مشتمل تھے۔ پروفیسر آرمروڈ نے کہا ہے کہ کوویڈ۔19 کی حالیہ عالمی وبا کے دوران ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پلاسٹک کی آلودگی ہمارے ماحول کے لیے بدستور ایک بڑا خطرہ ہے اور محفوظ ماحول میں اپنی زندگی گزارنے کی خواہش کے پیش نظر اس خطرہ پر ہمیں اپنی آنکھیں بند نہیں کرنی چاہئیں۔








