لاہور۔28نومبر (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دو پارلیمانی سالوں میں ریکارڈ قانون سازی کی ہے،جس پر انہیں فخر ہے۔بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے تمام اقدامات جیل مینوئل کے مطابق ہیں۔وہ جمعہ کو پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ1985 کے بعد پہلی مرتبہ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سب سے زیادہ …
پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دو پارلیمانی سالوں میں ریکارڈ قانون سازی کی ، "ستھرا پنجاب پروگرام” صوبے کا سب سے بڑا اور کامیاب منصوبہ ہے، سپیکر ملک محمد احمد خان کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور۔28نومبر (اے پی پی):سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دو پارلیمانی سالوں میں ریکارڈ قانون سازی کی ہے،جس پر انہیں فخر ہے۔بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے تمام اقدامات جیل مینوئل کے مطابق ہیں۔وہ جمعہ کو پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ1985 کے بعد پہلی مرتبہ پبلک اکاونٹس کمیٹی نے سب سے زیادہ موثر کام حالیہ مدت میں کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسمبلی کمیٹیوں کی کارروائی شفاف رہی، جسے بھی طلب کیا گیا وہ پیش ہوا اور مختلف معاملات میں نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
سپیکر نے "ستھرا پنجاب پروگرام” کو صوبے کا سب سے بڑا اور کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام بہترین انداز میں جاری ہے جبکہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بھی مثالی رہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماربل فیکٹریوں کے مزدوروں کی صحت کے سنگین مسائل کا حل بھی پنجاب اسمبلی نے نکالا،جس میں امجد علی جاوید نے اہم کردار ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی،ن لیگ،پیپلز پارٹی،ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے81 ارکان نے مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی آسان ہو اور مسائل کا حل گورننس کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی کو کیوں نہیں چلنے دیا جاتا؟بڑی تنخواہیں لینے والے ارکان کو مسائل حل کرنا ہیں یا ایوان کو احتجاج کا اکھاڑہ بنانا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے ان کا دیرینہ تعلق ہے اور وہ مختلف مارشل لائی ادوار بھی دیکھ چکے ہیں،مگر ایوان ہمیشہ عوام کے حقوق کی آواز رہا ہے۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے تمام اقدامات جیل مینوئل کے مطابق ہیں۔ان کے مطابق نواز شریف، مریم نواز، آصف علی زرداری،شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو بھی اسی جیل مینوئل کے تحت رکھا گیا تھا۔انہوں نے خبردار کیا کہ جیلوں کے باہر ہلڑ بازی یا بدامنی قومی سلامتی کے خلاف جرم ہے،جیسا کہ کچھ عناصر ماضی میں ملٹری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی بھی احتجاج کے نام پر بد نظمی کرتی رہی ہے۔سپیکر نے وزیراعلی مریم نواز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیہی عوام دہائیوں سے گندگی اور غلاظت کے ماحول میں رہ رہے تھے اور اب صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ستر فیصد آبادی گندگی کے ماحول میں رہ رہی تھی جسے تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب، گڈ گورننس اور کرپشن کے خاتمے کا اصل فورم اسمبلی ہے اور پارلیمان کو مضبوط بنانے میں ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ملک محمد احمد خان نے بتایا کہ ماضی میں اپوزیشن کے دور میں پچاس فیصد کاروبار بند رہتے تھے اور نیب و ایف آئی اے کے ذریعے کاروباری طبقہ متاثر ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
انہوں نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک معاشی اعتبار سے ترقی کی طرف گامزن تھا،بجلی بحران پر قابو پا لیا گیا تھا اور سی پیک جیسے منصوبے معیشت کو مضبوط کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی گفتگو کو غلط رنگ دیا گیا، حالانکہ انہوں نے کبھی کسی کو سخت سزا دینے کی بات نہیں کی۔سپیکر نے ضلعی حکومتوں کے لیے آئینی تحفظ کی بھی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ وہ اس کے وکیل ہیں اور اس سلسلے میں ہر قدم کی تائید کریں گے۔انہوں نے جعلی اشیائے خوردونوش، روزمرہ استعمال کی ناقص مصنوعات اور بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کو سنگین عوامی مسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ سسک رہے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق ملنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل حادثات میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے،راستوں پر گرنے والی موٹر سائیکلوں کے مناظر موت کا احساس دلاتے ہیں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ قومی سلامتی اور رازوں کا تحفظ پارلیمان کی ذمہ داری ہے اور اس ادارے کو مضبوط بنانا ہی تمام مسائل کا دیرپا حل ہے۔








