پنجاب حکومت تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے مختلف پروگراموں پر کام کر رہی ہے،مریم اورنگزیب
پنجاب حکومت تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے مختلف پروگراموں پر کام کر رہی ہے،مریم اورنگزیب

مزید خبریں
لاہور۔13جون (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت کے مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں، والدین اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا، بی این یو کی جانب سے منشیات سے پاک اور محفوظ کیمپس ماڈل متعارف کرانے کا اقدام قابل تعریف ہے، ایسے پروگرام نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی (بی این یو) میں ڈرگ فری سیف کیمپس ماڈل اور طلبہ کی ذہنی صحت سے متعلق دو اہم اشاعتوں کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی (بی این یو)نے طلبہ کی فلاح و بہبود، منشیات کے استعمال کی روک تمام اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے دو اہم رہنما کتابچوں کا اجرا کر دیا ہے۔
اس اقدام کے ذریعے بی این بو پاکستان کی پہلی جامعہ بن گئی ہے جس نے اپنے ادارہ جاتی تجربے کی بنیاد پر منشیات سے پاک تعلیمی ماحول کے قیام کے لیے ہمدردی، معاونت اور آگاہی پر مبنی ایک جامع فریم ورک کو باضابطہ طور پر مرتب اور شائع کیا ہے۔اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں صوبائی وزیر برائے اسکول و اعلی تعلیم رانا سکندر حیات،سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز، اینٹی نارکوٹکس فورس اور پنجاب کائونٹر نارکوٹکس فورس کے اعلی حکام صوبائی سیکرٹریز اور ذہنی صحت کے ممتاز ماہرین نے بھی شرکت کی۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے مختلف پروگراموں پر کام کر رہی ہے، نجی جامعات کے کامیاب تجربات سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ منشیات بہت سارے خاندانوں کے لئے چیلنجز بنی ہوئی ہے،میں بیکن ہائوس یونیورسٹی کو اس ایشو کو اٹھانے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے گزشتہ سال کائونٹر نارکوٹکس فورس بنائی،یہ فورس اس وقت پورے پنجاب میں کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی مریم نواز نے اس مسئلہ کو سمجھا اور اداروں کے ساتھ تعاون شروع کیا ہے،وزیر اعلی کا ویژن ہے کہ تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ آگاہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے تاہم مسئلے کی نشاندہی کے ساتھ اس کا قابل عمل حل پیش کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور دیگر تمام متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا ۔ انہوں نے تقریب کے منتظمین، شراکت دار اداروں اور مختلف جامعات کے نمائندوں کو بھی مبارکباددی۔سینئر وزیر نے یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ اس ہمدردی پر مبنی ماڈل کو قابل تقلید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض سزا اور تادیبی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں خود اعتمادی استقامت اور مثبت طرز زندگی کو فروغ دینے پر بھی توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے اس ماڈل کو پورے پاکستان میں فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ پنجاب حکومت صرف سرکاری جامعات ہی نہیں بلکہ نجی یونیورسٹیوں میں بھی مستحق طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے، حکومت کی تمام پالیسیوں کا مقصد طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت تعلیم کے شعبے میں اہم اصلاحات متعارف کرا رہی ہے اور محکمہ تعلیم میں تمام تعیناتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔رانا سکندر حیات نے کہا کہ متعدد جامعات میں وائس چانسلرز کی آسامیاں طویل عرصے سے خالی تھیں تاہم اب 32 یونیورسٹیوں میں میرٹ پر وائس چانسلرز تعینات کیے جا چکے ہیں۔منشیات کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا پورے معاشرے کو ہے اور مختلف اقسام کی منشیات نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، طلبہ کو محفوظ اور صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت اور تعاون فراہم کرے گی۔اس موقع پر بی این یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف نے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کو عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ایک جامع ادارہ جاتی مشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ادارہ پختہ عزم کے ساتھ اس سفر کا آغاز کرتا ہے تو یہ عمل ناقابل عبور نہیں رہتا۔انہوں نے جامعات کی قیادت پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کے تحفظ اور رہنمائی کے لیے فعال کردار ادا اور منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے ہمدردی، مثبت شمولیت اور صحت مند ہم نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔
بی این یو کے وائس چانسلر اور سابق قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف کی قیادت میں تیار کئے گئے اس فریم ورک میں قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی معاونت رہنمائی اور ہمدردانہ رویوں کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق طلبہ کو منشیات کے استعمال کی جانب مائل کرنے والے اہم عوامل میں خاندانی صدمات، ہم عمر ساتھیوں کا دبائو اور نئی نسل کے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان ابلاغی خلا شامل ہیں۔







