اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پولیس بھرتی کیس میں کہا ہے کہ پولیس فورس میں تقرری کے لئے طبی معیار لازمی ہیں لیکن معذور افراد کے حق ملازمت کو یقینی بنانے کے لئے معذور کوٹہ پر غور کیا جانا چاہئے۔ رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بنچ جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد …
پولیس بھرتی کے لئے طبی فٹنس لازمی، معذور کوٹہ پر غور ضروری ہے، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پولیس بھرتی کیس میں کہا ہے کہ پولیس فورس میں تقرری کے لئے طبی معیار لازمی ہیں لیکن معذور افراد کے حق ملازمت کو یقینی بنانے کے لئے معذور کوٹہ پر غور کیا جانا چاہئے۔ رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بنچ جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد کریم خان آغا شامل تھے، نے محمد فرحان کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن پر سماعت کے بعد تحریری حکمنامہ جاری کیا۔محمد فرحان نے ضلع اٹک میں پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی کے لئے اوپن میرٹ پر درخواست دی تھی۔ ابتدائی طور پر وہ بھرتی بورڈ کی جانب سے عارضی طور پر منتخب امیدواروں میں شامل تھے تاہم طبی معائنے کے دوران ان کی ایک آنکھ کی بینائی مقررہ معیار سے کم پائی گئی۔
بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال اٹک اور ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کے ماہر امراضِ چشم نے متفقہ طور پر انہیں طبی طور پر نااہل قرار دے دیا۔عدالت نے کہا کہ پنجاب پولیس رولز 1934 کے رول 12.16 اور اس سے منسلک ضمیمہ 12.16 کے تحت ہر بھرتی ہونے والے امیدوار کے لئے لازمی ہے کہ وہ دونوں آنکھوں سے مقررہ معیار کے مطابق بینائی رکھتا ہو۔ پولیس جیسے حساس اور مسلح ادارے میں خدمات انجام دینے کے لئے سخت طبی معیار ناگزیر ہیں۔درخواست گزار کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ بعض حاضر سروس پولیس اہلکار جسمانی معذوری کے باوجود دفتری فرائض انجام دے رہے ہیں اس لئے انہیں بھرتی کیا جائے، یہ دلیل درست نہیں۔
عدالت کے مطابق ایسے اہلکار ابتدا میں مکمل طور پر فٹ قرار پا کر بھرتی ہوئے تھے اور بعد میں سروس کے دوران جسمانی مسائل کے باعث دفتری ذمہ داریاں سونپی گئیں جو موجودہ مقدمے سے مختلف صورتحال ہےتاہم عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ درخواست گزار کی جزوی بینائی کی معذوری معذور کوٹہ کے تحت دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے پنجاب امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبیلٹیز ایکٹ 2022 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت معذور افراد کو ملازمت میں امتیازی سلوک سے بچانے اور کوٹہ کے مطابق تقرری کے مواقع فراہم کرنے کی ضمانت ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ درخواست گزار نے معذور کوٹہ کے تحت درخواست نہیں دی تاہم متعلقہ قانون تمام سرکاری ملازمتوں کے اشتہارات کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس خود بھی سٹینڈنگ آرڈر میں معذور افراد کے لئے کوٹہ منظور کر چکی ہے۔ فیصلے میں عدالت نے پولیس کانسٹیبل کے طور پر تقرری سے انکار کو قانونی قرار دیا لیکن معذور کوٹہ کے تحت درخواست گزار کے کیس پر قانون کے مطابق غور کرنے کا راستہ کھلا چھوڑ دیا۔عدالت نے سابقہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معذوری کسی امیدوار کو ملازمت سے مکمل محروم نہیں کر سکتی بشرطیکہ متعلقہ قانون اور ضوابط کے تحت امیدوار اہل ہو۔







