اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوسائو سیکورسکی نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں”پولینڈ کی کامیابی کی کہانی: ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے ایک پیغام“ کے موضوع پر جمعرات کو لیکچر دیا۔ تقریب کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد سنٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیو (سی ایس پی) نے پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (پی آئی ایس ایم) کے …
پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوسائو سیکورسکی کا انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں”پولینڈ کی کامیابی کی کہانی: ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے ایک پیغام“ کے موضوع پر لیکچر

مزید خبریں
اسلام آباد۔23اکتوبر (اے پی پی):پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوسائو سیکورسکی نے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں”پولینڈ کی کامیابی کی کہانی: ابھرتے ہوئے ممالک کے لیے ایک پیغام“ کے موضوع پر جمعرات کو لیکچر دیا۔ تقریب کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد سنٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیو (سی ایس پی) نے پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز (پی آئی ایس ایم) کے تعاون سے کیا تھا۔تقریب میں سفارت کاروں، پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل آئی ایس ایس آئی نے پولینڈ میں قائم یورپی تھنک ٹینک پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کئے۔
دستخط دفتر خارجہ میں ہوئے جہاں ڈائریکٹر جنرل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد سہیل محمود اور ڈائریکٹر پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز ڈاکٹر جاروسلاو چاویک کارپوویچ نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ان کے پولینڈ کے ہم منصب کی موجودگی میں دستاویز پر دستخط کیے۔ اپنے خطاب میں پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے پولینڈ کی تاریخی تبدیلی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اس کے وسیع تر اثرات کا ذکر کیا۔ چار دہائیوں قبل پاکستان کے اپنے ابتدائی دورے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور سوویت قبضے کے خلاف افغان مزاحمت کے دوران پاکستان کے اہم کردار کے بارے میں گرمجوشی سے بات کی۔کمیونزم کے بعد کی معیشت سے یورپ کی سب سے زیادہ متحرک ریاستوں میں سے ایک تک پولینڈ کے سفر کا خاکہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ملک کی کامیابی کا سہرا مشکل لیکن فیصلہ کن اصلاحات، ادارہ جاتی جدت اور ایک مستحکم بین الاقوامی ماحول کو قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ 1989ء کے بعد سے پولینڈ کی فی کس جی ڈی پی میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ملک کی اقتصادی تبدیلی جغرافیائی اور سماجی طور پر متوازن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ کا تجربہ درمیانے درجے کی ریاستوں کے لیے تحریک کا کام کرسکتا ہے جو پائیدار ترقی اور عالمی مطابقت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوسائو سیکورسکی نے وسیع تر جغرافیائی سیاسی تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور بین الاقوامی قانون کو درپیش چیلنجوں کے درمیان دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ انہوں نے خودمختاری، مکالمے اور کثیر جہتی تعاون پر مبنی ”قواعد پر مبنی بین الاقوامی آرڈر“ کے لیے نئے عزم کا مطالبہ کیا۔ عالمی بحرانوں پر پولینڈ کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور دو ریاستی حل کے لیے پولینڈ کی حمایت کے ساتھ ساتھ روسی جارحیت کے مقابلے میں یوکرین کے لیے اس کی مسلسل حمایت اور مدد کے بارے میں شرکا کو بتایا۔
دو طرفہ تعلقات پر انہوں نے پولینڈ اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تجارتی شراکت داری پر زور دیا جو حال ہی میں سالانہ حجم میں ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں پولینڈ کی تیل اور گیس کمپنی اورلین کی تقریباً تین دہائیوں سے موجودگی کو پائیدار تعاون کی علامت کے طور پر اجاگر کیا اور توانائی، کان کنی، پانی کے انتظام، فوڈ پر ا سیسنگ اور فنٹیک میں نئے مواقع کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ پاکستان کے ساتھ اپنے ترقیاتی تجربے اور تکنیکی مہارت خاص طور پر قابل تجدید توانائی اور پائیدار صنعت میں اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل اپنے ریمارکس میں ڈی جی انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آبادسہیل محمود نے پولینڈ کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ رادوسائو سیکورسکی کا خیرمقدم کیا اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پولینڈ کی نمایاں تبدیلی کو سراہا۔
انہوں نے پولینڈ کو یورپ کی سب سے کامیاب تبدیلی کی کہانیوں میں سے ایک قرار دیا، ایک ایسا ملک جس نے ایک مضبوط اور ریزیلنٹ ریاست کے طور پر ابھرنے کے لیے اقتصادی نظم و ضبط، ادارہ جاتی اصلاحات اور سٹریٹجک دور اندیشی کو یکجا کیا ہے۔سہیل محمود نے کہا کہ ایک انتہائی پیچیدہ عالمی ماحول میں پاکستان نے اپنے اہم جغرافیہ، فوجی صلاحیت اور سفارت کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئی تزویراتی اہمیت حاصل کرنے کے لیے مہارت کے ساتھ کام کیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز ڈاکٹر جاروسلاو چاویک کارپوویچ نے پولش انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کے درمیان شراکت داری کو سراہتے ہوئے اسے پولینڈ اور پاکستانی تعلیمی تعاون میں ایک نئے اور امید افزاء باب کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ اور پاکستان، دونوں بین الاقوامی برادری کے ذمہ دار اراکین کے طور پر عالمی امن کو فروغ دینے اور قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظم کو برقرار رکھنے میں تعمیری کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکچر کے بعد ایک انٹرایکٹو سوال و جواب کا سیشن ہوا بعد از ں معزز مہمان کو سووینئر پیش کی گئی ۔








