وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو روزانہ کی بنیاد پر لانے سے قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات بروقت عوام تک منتقل ہوں گے، اس نظام سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور پرائسنگ فارمولا سب کے سامنے ہوگا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیادوں پر ہونے سے شفافیت آئے گی، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو روزانہ کی بنیاد پر لانے سے قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات بروقت عوام تک منتقل ہوں گے، اس نظام سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور پرائسنگ فارمولا سب کے سامنے ہوگا۔ جمعہ کو یہاں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق بین الاقوامی کشیدگی سے ہے۔ یہ بات سب پر واضح ہے کہ پاکستان عالمی کشیدگی میں کمی کے لئے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے اور عالمی برادری بھی ان اقدامات کی معترف ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے کیونکہ پاکستان اپنی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا میں کشیدگی عروج پر تھی تو تیل کی قلت پیدا ہونے سے کئی ترقی یافتہ ممالک میں تیل کے حصول کے لئے طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں، اس وقت وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بروقت اضافی ذخائر کا انتظام کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کے کارگوز منگوائے گئے اور اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ پاکستان کے کسی شہر یا علاقے میں پٹرول اور ڈیزل کی قلت پیدا نہ ہو۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بہت سے ممالک میں تیل کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے راشننگ کا نظام متعارف کرایا گیا تاہم پاکستان میں نہ تو راشننگ کی ضرورت پیش آئی اور نہ ہی ایک دن کی قلت ہوئی۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے بریفنگ میں مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا کہ ملک میں ڈیڑھ سے دو ماہ کے پٹرولیم ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیل معیشت کا پہیہ چلانے، آمد و رفت کے نظام اور دیگر شعبوں کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس کے لئے بروقت اور مؤثر اقدامات کئے گئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں تو وفاقی حکومت نے اپنے وسائل سے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرکے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھیں تاہم پاکستان میں قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ حکومت نے سبسڈی کے ذریعے اس اضافے کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا فیصلہ تھا کہ عوام پر بوجھ منتقل نہ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آتے رہے ہیں، اس سلسلے میں پرائسنگ فارمولا سب کے سامنے شائع کیا جائے گا تاہم اسے باضابطہ طور پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) بطور ریگولیٹر جاری کرے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بعض اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر آج قیمت میں کمی ہوئی ہے تو اس کا فائدہ فوری طور پر عوام کو کیوں منتقل نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لئے ایک ہفتے کی اوسط قیمت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اگر قیمتوں کا اعلان جمعہ کو کیا جاتا ہے تو اس کے لئے گزشتہ چھ دنوں کی قیمتوں کی اوسط نکالی جاتی ہے اور ساتویں روز یعنی جمعہ کو اسی اوسط کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل عوام کو منتقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پورے ہفتے کے دوران قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا ہو تو اس کا مجموعی اثر عوام کو ایک مرتبہ ہی منتقل کر دیا جاتا ہے جبکہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو تو اس کا اثر بھی اسی طریقہ کار کے تحت منتقل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے یہی طریقہ کار رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو ہفتہ وار سے روزانہ کی بنیادوں پر لانے سے قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو اسی تناسب سے منتقل کیا جا سکے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تیل کی قیمتیں جب بڑھتی ہیں تو اس کا اثر عوام پر پڑتا ہے، حکومت کو اس کا مکمل احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سبسڈی کے ذریعے گڈز ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ، زراعت کے شعبے اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد سمیت ان تمام طبقات کو ریلیف فراہم کیا جو اس کے مستحق تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین سے یہ فائدہ ہوگا کہ قیمتوں میں کمی کے ثمرات فوری منتقل نہ ہونے کی جو شکایات سامنے آتی رہی ہیں، ان کا ازالہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات اسی حساب سے منتقل ہوں گے، اس نظام سے شفافیت میں مزید اضافہ ہوگا اور پرائسنگ فارمولا عوام کے سامنے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غلط تاثر ہے کہ پٹرولیم لیوی میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیا ہے حالانکہ جنگ سے قبل عائد لیوی کے مقابلے میں موجودہ لیوی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے کم رکھنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے اور غیر معمولی کوششیں کی گئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہوگا اور پرائسنگ فارمولا سب کے سامنے لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو الیکٹرک بائیکس اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف بڑھنا ہوگا، یہ ناگزیر ہے، آج نہیں تو کل ہمیں اس سمت میں جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی بل میں مسلسل اضافے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر عوام پر منتقل کرنے سے بچنے کا بہترین حل یہی ہے کہ بتدریج الیکٹرک وہیکلز اور الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نوجوان طلبہ و طالبات الیکٹرک بائیکس کے ذریعے سکولوں اور کالجوں کو جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک بائیکس کے رجحان کو فروغ دینا پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں کی ذمہ داری ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بہت زیادہ منافع کمایا، جو کہ غلط ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور ریگولیٹر کو واضح ہدایات دیں کہ کسی کو بھی اضافی منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ جنہوں نے اضافی منافع کمایا ان سے رقم واپس وصول کی گئی جو ملکی تاریخ میں ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر کسی کو پٹرولیم مصنوعات یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ براہ راست اوگرا کی ویب سائٹ یا ای میل کے ذریعے شکایت درج کرا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف اس وقت جتنی سخت نگرانی اور ریگولیشن موجود ہے، وہ پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا ایک آزاد ریگولیٹر ہے، ایک دیانتدار اور باصلاحیت افسر کی بطور چیئرمین تعیناتی کے بعد ادارے میں آئی ٹی بیسڈ نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اوگرا اس امر کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہے کہ کوئی اضافی منافع خوری، ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی طور پر قیمتوں میں اضافہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پورا نظام متحرک ہے اور کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی، مصنوعی طریقے سے قیمتیں بڑھانے یا ناجائز منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنا اور منافع کمانا ہر فرد کا حق تاہم بحران کی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی کی گئی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نظام میں شفافیت لانے اور عوام کو عالمی سطح پر قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے آگاہ کرنے کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یہ شکایت بھی دور ہو جائے گی کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کو منتقل کیوں نہیں ہوتا۔ اس سے قیمتوں کے تعین کے نظام میں مزید بہتری اور شفافیت آئے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دعا ہے کہ ہماری قیادت کی کوششیں کامیاب ہوں اور پاکستان کی ثالثی کی کاوشیں بارآور ثابت ہوں تاکہ جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لئے ٹھنڈے ہوں، معاملات حل کی جانب بڑھیں، تیل کی قیمتوں میں استحکام آئے اور قیمتوں میں کمی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہر معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ بہت سے لوگ اس معاملے پر سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم ماہرین معاشیات اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین اس پر ضرور بات کریں، کئی مواقع پر اس حوالے سے تعمیری بحث ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف اس حوالے سے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور تمام وزراء اور متعلقہ ڈویژنز کو مسلسل ہدایات دیتے رہتے ہیں جبکہ وہ ذاتی طور پر بھی معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف برقرار رکھنے کے لیے ترقیاتی بجٹ سے کٹوتی کی گئی جبکہ اس کے علاوہ کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات کے ذریعے بھی وسائل حاصل کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے نظام سے مزید بہتری آئے گی۔








