اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (پی آر سی سی ایس ایف) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم نے کثیر القطبی عالمی نظام میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لئے اشتراکی فریم ورک، کثیرالجہتی تعاون اور علم کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔وہ چوتھے اکیڈمک سمپوزیم برائے “گلوبل سکیورٹی گورننس” سے خطاب کر رہے تھے جو بائز انسٹی ٹیوٹ آف …
پی آر سی سی ایس ایف علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لئے باہمی تعاون کے فریم ورک کی اہمیت پر زور دیتا ہے، خالد تیمور اکرم
اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (پی آر سی سی ایس ایف) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم نے کثیر القطبی عالمی نظام میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لئے اشتراکی فریم ورک، کثیرالجہتی تعاون اور علم کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔وہ چوتھے اکیڈمک سمپوزیم برائے “گلوبل سکیورٹی گورننس” سے خطاب کر رہے تھے جو بائز انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز، ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لا، چونگ چنگ، چین اور فیکلٹی آف پولیٹیکل سائنس، تھاماسات یونیورسٹی، بینکاک، تھائی لینڈ کے اشتراک سے چین کے شہر چونگ چنگ میں منعقد ہوا۔ سمپوزیم میں 27 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 80 نامور سکالرز اور ماہرین نے شرکت کی۔اس سال سمپوزیم کا موضوع ’’گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی عصری تشریح اور عالمی اہمیت‘‘ تھا۔
افتتاحی کلیدی خطابات چیئرمین و صدر بائز انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز پروفیسر ما فانگ اور وائس پریزیڈنٹ ساؤتھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لا پروفیسر ہو ایرگوئی نے دیئے۔ دونوں مقررین نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کثیر القطبی رجحان کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون، ضابطہ جاتی عالمی حکمرانی کے فروغ اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔خالد تیمور اکرم نے ’’ریجنل پریکٹسز اِن گلوبل سکیورٹی گورننس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ فورم میں ’’کثیر القطبی دنیا میں علاقائی سلامتی کی حکمرانی پر نظرِ ثانی‘‘ کے موضوع پر کلیدی خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ڈھانچوں کا تجزیہ کرتے ہوئے موثر سلامتی چیلنجز سے نمٹنے میں ریاستی اور غیر ریاستی کرداروں کے بدلتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے عملی کیس سٹڈیز اور پالیسی بصیرت کی بنیاد پر علاقائی تجربات کو عالمی حکمرانی کے نظام کے ساتھ مربوط کرنے کے لئے جدید اور قابلِ عمل تجاویز پیش کیں، ان کی پیشکش کو علمی تجزیے اور عملی حکمتِ عملی کے امتزاج کے باعث شرکا کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
چوتھے اکیڈمک سمپوزیم نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے ممتاز سکالرز، پالیسی سازوں اور ماہرین کو عالمی سلامتی اور حکمرانی کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کے لئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ نظریاتی اور عملی زاویوں کے امتزاج کے ذریعے یہ سمپوزیم عالمی سلامتی کی حکمرانی پر جاری مباحثے میں ایک اہم اور بامعنی اضافہ ثابت ہوا جس میں علاقائی تعاون اور کثیر القطبی اشتراک کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا۔









