پی ایف ایف کا فیفا ڈپلومیسی وژن اور دو سالہ تاریخی فتوحات کا سفر، ملک میں پہلی باقاعدہ پروفیشنل لیگ کا پلان تیار

پاکستان میں کرکٹ کے جنون کے درمیان، فٹبال کا کھیل خاموشی سے ایک ایسے تاریخی انقلاب سے گزر رہا ہے جس نے ملکی سپورٹس ہسٹری کے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

خرم شہزاد

اسلام آباد۔9جولائی (اے پی پی):پاکستان میں کرکٹ کے جنون کے درمیان، فٹبال کا کھیل خاموشی سے ایک ایسے تاریخی انقلاب سے گزر رہا ہے جس نے ملکی سپورٹس ہسٹری کے کئی ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ طویل عرصے تک تنہائی، وسائل کی کمی اور انتظامی بحرانوں کا شکار رہنے والے اس کھیل کو پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے صدر سید محسن گیلانی کی شکل میں ایک ایسی وژنری قیادت ملی ہے، جنہوں نے ملکی تاریخ کے واحد پی ایف ایف صدر کے طور پر فیفا اور اے ایف سی کی اعلیٰ ترین قیادت کے ساتھ اپنے براہ راست اور مضبوط ذاتی رابطوں کو پاکستان فٹبال کی بحالی کا سب سے بڑا ہتھیار بنا دیا۔

ان کی اسی ‘انٹرنیشنل فیفا ڈپلومیسی’ کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان نے وہ فتوحات سمیٹی ہیں جو اس سے قبل ایک خواب نظر آتی تھیں۔ پاکستان نے مالدیپ میں ڈائمنڈ جوبلی ٹورنامنٹ جیت کر 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار کوئی فیفا سے تسلیم شدہ بین الاقوامی ٹائٹل اپنے نام کیا، مینز ٹیم نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ‘فیفا ورلڈ کپ 2026 کوالیفائرز’ کے دوسرے راؤنڈ میں جگہ بنا کر عالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھائی، اور خواتین کی قومی ٹیم نے ‘فیفا سیریز 2026’ میں یادگار کارکردگی کے ذریعے رینکنگ میں ریکارڈ ساز ترقی حاصل کی۔ جونیئر سطح پر انڈر 19 اور انڈر 16 ٹیموں کی اے ایف سی اور ساف ٹورنامنٹس میں فتوحات اور فٹسال ٹیم کی ریاض اور تھائی لینڈ کے عالمی مقابلوں میں پہلی تاریخی شرکت؛ یہ وہ تمام سنگ میل ہیں جنہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صدر محسن گیلانی کے وژن اور فیفا قیادت کے براہ راست تعاون نے پاکستان فٹبال کو زوال کے اندھیروں سے نکال کر عالمی افق پر چمکنے کے لیے تیار کر دیا ہے۔

صدر محسن گیلانی کے فیفا اور اے ایف سی قیادت سے براہ راست روابط کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ فیفا کے سینئر نائب صدر اور اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم آل خلیفہ نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا، جس سے ملکی فٹبال کا عالمی وقار بحال ہوا۔ ان رابطوں کی بدولت پی ایف ایف کے آئین کو فیفا کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ڈھالنے کے لیے مشترکہ ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔برسوں سے معطل اور غیر فعال بینک اکاؤنٹس کو بحال کروا کر فیڈریشن کے مالیاتی نظام میں سو فیصد شفافیت لائی گئی۔ فٹبال کے معاملات میں کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر کے آپریشنل خود مختاری حاصل کی گئی۔پاکستانی کھلاڑیوں کو روایتی کھیل سے نکال کر جدید فٹبال کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے صدر پی ایف ایف نے دنیا کی بڑی فٹبال طاقتوں کے ساتھ اسٹریٹجک معاہدے کیے۔ ارجنٹائن، جاپان، سعودی عرب اور چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں کے تحت اب پاکستانی کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تکنیکی مہارتیں اور ٹریننگ مل رہی ہے۔

مزید برآں، دنیا کی مایہ ناز ‘لا-لیگا’ کے ساتھ بھی پاکستان میں یوتھ ڈویلپمنٹ اور مقامی لیگز کے فروغ کا معاہدہ حتمی مراحل میں ہے۔محسن گیلانی کی سرپرستی میں خواتین کے فٹبال کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔ فیفا سے خصوصی گرانٹ منظور کروا کر نہ صرف ایک خود مختار ویمنز فٹبال ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا بلکہ ملک کا پہلا ‘نیشنل ویمنز فٹبال سمپوزیم’ بھی منعقد ہوا، جس نے خواتین کھلاڑیوں کو نئے مواقع فراہم کیے۔ گراس روٹ لیول پر کھیل کی بنیادیں مضبوط کرنے کے لیے ‘فٹبال فار اسکولز’ پروگرام کے تحت ملک بھر کے اضلاع میں 150,000 سے زائد فٹبالز تقسیم کی جا رہی ہیں اور اسکول اساتذہ کو کوچنگ کی جدید تربیت دی جا رہی ہے۔پی ایف ایف کے صدر محسن گیلانی کا سب سے انقلابی اور بڑا خواب پاکستان کی پہلی باقاعدہ ‘مینز پروفیشنل فٹبال لیگ’ کا انعقاد ہے، جو 8 فرنچائز ٹیموں پر مشتمل ہوگی۔ یہ لیگ پاکستان میں فٹبال کو ایک باقاعدہ انڈسٹری اور تجارتی معیشت میں تبدیل کر دے گی، جس سے سینکڑوں مقامی کھلاڑیوں کو مستقل روزگار اور بین الاقوامی معیار کا پروفیشنل کیریئر میسر آئے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں اسٹیڈیمز کے انفراسٹرکچر اور ‘فیفا فارورڈ مینی پچز’ کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے۔پاکستان فٹبال فیڈریشن کے اس جامع روڈ میپ اور دو سالہ کارکردگی سے یہ واضح ہے کہ پاکستان فٹبال اب کسی بحران کا شکار نہیں بلکہ ترقی کی نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔ صدر سید محسن گیلانی کی مخلصانہ قیادت اور فیفا قیادت کے ساتھ ان کے براہ راست روابط نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت درست اور وژن عالمی ہو تو میدان جیتے جا سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ اس تاریخی سفر میں پی ایف ایف کا ہاتھ تھامیں تاکہ یہ فتوحات مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکیں۔