اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مذکورہ قانون سرکاری ملازمین کی تقرری، تبادلے اور ترقی کے اختیارات کو محدود نہیں کرتا، تاہم “پروفیشنل انجینئرنگ ورک” صرف رجسٹرڈ یا پروفیشنل انجینئر ہی انجام دے سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق پانچ رکنی بینچ جس …
پی ای سی ایکٹ ،سرکاری ملازمین کی تقرری، تبادلے اور ترقی کے اختیارات کو محدود نہیں کرتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مذکورہ قانون سرکاری ملازمین کی تقرری، تبادلے اور ترقی کے اختیارات کو محدود نہیں کرتا، تاہم “پروفیشنل انجینئرنگ ورک” صرف رجسٹرڈ یا پروفیشنل انجینئر ہی انجام دے سکتے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق پانچ رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید نے کی، جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس صلاح الدین پنہوار اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے، نے غلام عباس سومرو کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ سروس ٹریبونل کا 28 جنوری 2021 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 2011 کی ترامیم کے بعد پاکستان انجینئرنگ کونسل ایکٹ کا بنیادی مقصد انجینئرنگ پیشے کو منظم کرنا اور معیار کو یقینی بنانا ہے نہ کہ سول سرونٹس کی سروس اسٹرکچر یا ترقی کے معاملات میں مداخلت کرنا۔
عدالت کے مطابق حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے محکموں میں بھرتی، ترقی اور تعیناتی سے متعلق پالیسی بنائے، تاہم جہاں پروفیشنل انجینئرنگ ورک کی انجام دہی کا سوال ہو وہاں قانون کے تحت رجسٹریشن لازمی ہے۔فیصلے میں وضاحت کی گئی کہ پروفیشنل انجینئر، رجسٹرڈ انجینئراور پروفیشنل انجینئرنگ ورک کی اصطلاحات کا دائرہ مخصوص ہے اور ان کا اطلاق صرف ان کاموں پر ہوگا جو قانون میں بیان کیے گئے ہیں، خصوصاً تکنیکی مشاورت اور پیشہ ورانہ رائے دینے جیسے امور۔
عدالت نے کہا کہ اس قانون کا مقصد یہ نہیں کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے تمام انجینئرنگ اسٹاف کو غیر مؤثر بنا دیا جائے یا ایک ہی کیڈر میں مختلف طبقات قائم ہو جائیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مولا بخش شیخ کیس میں دی گئی احتیاطی ہدایت کا تعلق صرف اس امر سے ہے کہ حکومت کسی ایسے شخص کو پروفیشنل انجینئرنگ ورک انجام دینے کی اجازت نہ دے جو پاکستان انجینئرنگ کونسل میں رجسٹرڈ نہ ہو، بصورت دیگر قانون کے تحت سزائیں لاگو ہو سکتی ہیں۔عدالت نے نتیجتاً اپیل منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اپیل کنندہ کے کیس پر قانون اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں ازسرِنو غور کیا جائے۔ زیر التواء تمام متفرق درخواستیں بھی نمٹا دی گئیں۔








