پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) نے ممتاز سائنسدان اور ادارے کے بانی چیئرمین ڈاکٹر امیر محمد کی قومی خدمات کے اعتراف میں قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (این اے آر سی) کے کراپ سائنسز انسٹی ٹیوٹ کا نام تبدیل کرکے ڈاکٹر امیر محمد انسٹی ٹیوٹ آف کراپ سائنسز رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد میں ڈاکٹر امیر محمد کی زندگی، سائنسی خدمات …
پی اے آر سی کا کراپ سائنسز انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر امیر محمد کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) نے ممتاز سائنسدان اور ادارے کے بانی چیئرمین ڈاکٹر امیر محمد کی قومی خدمات کے اعتراف میں قومی زرعی تحقیقاتی مرکز (این اے آر سی) کے کراپ سائنسز انسٹی ٹیوٹ کا نام تبدیل کرکے ڈاکٹر امیر محمد انسٹی ٹیوٹ آف کراپ سائنسز رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں قومی زرعی تحقیقاتی مرکز اسلام آباد میں ڈاکٹر امیر محمد کی زندگی، سائنسی خدمات اور ملک کی زرعی تحقیق کے فروغ میں ان کے کردار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے کہا کہ ڈاکٹر امیر محمد کی دوراندیش قیادت اور وژن نے پاکستان میں ایک مضبوط اور مربوط قومی زرعی تحقیقی نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشوں سے ایسے تحقیقی ادارے وجود میں آئے جنہوں نے سائنسی ترقی اور قومی خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کراپ سائنسز انسٹی ٹیوٹ کو ڈاکٹر امیر محمد کے نام سے منسوب کرنا ان کی بے مثال خدمات اور علمی ورثے کا اعتراف ہے، جو آئندہ نسلوں کے سائنسدانوں اور محققین کے لئے مشعل راہ رہے گا۔ ڈاکٹر امیر محمد نے 1978ء سے 1990ء تک پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور ملک میں مربوط زرعی تحقیقی نظام کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ فیصل آباد میں نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی کے بانی ڈائریکٹر، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر اور نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمرجنگ سائنسز کے بانی ریکٹر بھی رہے۔ تعزیتی ریفرنس میں ڈاکٹر امیر محمد کی صاحبزادیوں اور دیگر اہلخانہ، پی اے آر سی کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین سمیت مختلف تحقیقی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے ڈاکٹر امیر محمد کی سائنسی کامیابیوں، قائدانہ صلاحیتوں اور پاکستان میں زرعی تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔








