پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے سینیٹر فیصل جاوید

اسلام آباد ۔ 16 نومبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے ،نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے عدالت کی طرف سے تحریری فیصلہ آنے کے بعد ہی وفاقی کابینہ اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی، نواز شریف کا نام …

اسلام آباد ۔ 16 نومبر (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے ،نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے عدالت کی طرف سے تحریری فیصلہ آنے کے بعد ہی وفاقی کابینہ اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی، نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا، حکومت نے نواز شریف کی نازک صورتحال کو دیکھ کر انہیں باہر جانے کی اجازت دی تھی لیکن ن لیگی رہنما ان کی صحت پر سیاست کرتے رہے جس کی وجہ سے وقت ضائع ہوا۔ ہفتہ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کہ انہوں نے کہا کہ کابینہ اور وزیر اعظم ایک پیج پر ہیں اور متقفہ طور پر نواز شریف کو باہر جانے کیلئے شورٹی بانڈ جمع کرانے کیلئے کہا گیا تھا، بات دباﺅ کی نہیں بلکہ قانون کی ہے کہ قانون کیا کہتا ہے اور قانون کے تحت کسی مجرم کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا۔ فیصل جاوید نے کہا کہ حکومت نے میڈیکل بورڈ کی رائے پر اور نواز شریف کی نازک صورتحال کے پیش نظر انہیں بیرون ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت دی تھی لیکن ن لیگی رہنماﺅں نے اپنے قائد کی صحت پر سیاست کی جس کی وجہ سے وقت ضائع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا ہے لیکن پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل) ن کا مسئلہ یہ ہے کہ جب عدالت ان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو وہ اسے قبول کرتے ہیں اور جب فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو پھر وہ عدالتوں پر اٹیک کرتے ہیں۔ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے تحریری فیصلہ آنے کے بعد جو بھی قانونی تقاضے ہیں انہیں پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے ایک سے زائد افراد جو مطلوب و مفرور ہیں ملک سے باہر ہیں لیکن وہ پاکستان میں آ کر عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں، اسی طرح نواز شریف جو کہ مرکزی ملزم ہیں خدشہ ہے کہ اگر وہ علاج کے بعد وطن واپس نہیں آتے تو ان کے کیسز کیسے آگے بڑھیں گے اسلئے حکومت نے شورٹی بانڈ کی شرط رکھی تھی۔

مزید خبریں