فیصل آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ ایک بڑی سیاسی غلطی ہے، تاریخ نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ انتخابی عمل سے دوری سیاسی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ نہ عدالتوں سے ملتا ہے نہ میڈیا سے، بلکہ عوام کے پاس جانے اور …
پی ٹی آئی کا الیکشن بائیکاٹ بڑی سیاسی غلطی ، انتخابی عمل سے دوری سیاسی نقصان کا باعث بنتی ہے، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 29 نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ ایک بڑی سیاسی غلطی ہے، تاریخ نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ انتخابی عمل سے دوری سیاسی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ نہ عدالتوں سے ملتا ہے نہ میڈیا سے، بلکہ عوام کے پاس جانے اور انتخابی عمل میں شریک ہونے سے ملتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ عوام کے درمیان جا کر مسائل کا سیاسی حل پیش کرتی، نہ کہ انتخابی عمل سے کنارہ کشی اختیار کرتی۔وہ آج چنیوٹ میں اپنے دفتر میں کھلی کچہری کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ کھلی کچہری میں ضلع بھر سے سینکڑوں شہریوں نے شرکت کی جبکہ تمام متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر شہریوں نے صفائی، صحت، بجلی، گیس، پینے کے پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق شکایات پیش کیں جن پر وفاقی وزیر نے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کیں اور یقین دہانی کرائی کہ تمام درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے تعلیم کے فروغ کے لیے اعلان کیا کہ مستحق طلبہ و طالبات کی تعلیمی فیس وہ اپنی ذاتی جیب سے ادا کریں گے جبکہ ضرورت مند مریضوں کے مفت علاج اور ادویات کی فراہمی بھی جاری رکھی جائے گی۔ کھلی کچہری میں غریب اور مستحق شہریوں میں مالی امداد بھی تقسیم کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر چنیوٹ صفی اللہ گوندل نے بھی ڈیرہ قیصر احمد شیخ پر وفاقی وزیر سے ملاقات کی جس میں ضلع کے انتظامی امور، زیرتکمیل ترقیاتی منصوبوں اور نئی تجاویز پر گفتگو ہوئی۔ ڈی سی نے وفاقی وزیر کو ضلع بھر کی صورتحال اور جاری ترقیاتی کاموں پر جامع بریفنگ دی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات میں ملک بھر میں بہترین کارکردگی دکھائی حتیٰ کہ خیبر پختونخوا میں بھی سخت مقابلے کے باوجود عوام نے مسلم لیگ ن کو اعتماد کا ووٹ دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پیپلز پارٹی ایک اہم اتحادی جماعت ہے جس نے مسلم لیگ ن کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور دونوں جماعتیں ملک کے معاملات کی بہتری کے لیے مثالی ورکنگ ریلیشن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
نئے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ ایوارڈ صوبوں کی مشاورت سے اس انداز میں تشکیل دیا جائے گا کہ وفاق مضبوط ہو جبکہ صوبوں کی کارکردگی بھی بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ قومی آمدنی کا تقریباً سات فیصد حصہ ہر سال خسارے میں ضائع ہو جاتا ہے اور صحت و تعلیم جیسے اہم شعبوں میں صوبوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ کراچی کے تعلیمی معیار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ طلبہ کی کامیابی صرف 12 فیصد رہ گئی ہے جو مستقبل کے لیے تشویشناک ہے۔سابق حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور کے غیر مؤثر فیصلوں نے ملک کو ڈیفالٹ کے قریب پہنچا دیا۔
امیر طبقے کو اربوں روپے کے قرضے دیے گئے جن کا نہ آڈٹ ہوا اور نہ ہی ان کی واپسی کی کوئی ضمانت جبکہ ایکسپورٹ نہ بڑھنے سے معیشت بدترین دباؤ کا شکار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کا راستہ صرف فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ، ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ اور معدنیات خصوصاً رئیر ارتھ میٹریلز میں سرمایہ کاری کے فروغ سے گزرتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن گزشتہ چار دہائیوں سے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور عالمی ادارے بھی اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سمگلنگ کی روک تھام اور سرکاری دفاتر میں شفافیت یقینی بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر سات سے آٹھ سال بعد آنے والے تباہ کن سیلاب مستقل حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی روکنا اور ماحولیاتی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزارت سرمایہ کاری کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاروبار کی آسانی کے لیے متعدد غیر ضروری قوانین ختم کیے جا چکے ہیں اور اسلام آباد میں ”ون ونڈو سہولت کاری مرکز“قائم کر دیا گیا ہے جہاں سرمایہ کاروں کو تمام وزارتوں کے افسران ایک ہی مقام پر ہر طرح کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ہر دو سے تین ہفتے بعد کھلی کچہری منعقد کرتے ہیں تاکہ عوامی مسائل براہ راست سن کر موقع پر ہی ان کا حل نکالا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ حکومتی تنخواہ نہیں لیتے بلکہ وہ اسے سیلاب ریلیف فنڈ میں جمع کروا چکے ہیں۔آخر میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اجتماعی کوشش، سیاسی استحکام اور قومی اتحاد ہی پاکستان کو موجودہ معاشی مشکلات سے نکال سکتا ہے اور موجودہ حکومت پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔








