اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو آئے روز نئے میثاق کی ضرورت پڑتی ہے، ان کو سمت ہی معلوم نہیں کہ کہاں جانا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے ملک کو چلایا ہے، پی ڈی ایم رہنما بتائیں کہ آج تک کس حکمت عملی پر چل رہے تھے، ایسی تحریک کا کوئی …
پی ڈی ایم کو آئے روز نئے میثاق کی ضرورت پڑتی ہے، ان کو سمت ہی معلوم نہیں کہ کہاں جانا ہے، ایسی تحریک کا کوئی مستقبل نہیں ،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔8نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو آئے روز نئے میثاق کی ضرورت پڑتی ہے، ان کو سمت ہی معلوم نہیں کہ کہاں جانا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے ملک کو چلایا ہے، پی ڈی ایم رہنما بتائیں کہ آج تک کس حکمت عملی پر چل رہے تھے، ایسی تحریک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اپوزیشن کی باتیں اپنے مفادات کیلئے ہیں، عوام کیلئے نہیں، بدعنوان عناصر قانونی ریلیف لینے کیلئے قومی اداروں پر دبائو ڈالنا چاہتے ہیں لیکن حکومت کسی صورت میں انہیں این آر او نہیں دے گی، نواز شریف کے بیانیے سے مسلم لیگ ن کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے، بلوچستان میں پہلی جھلک نظر آ گئی ہے، آنے والے دنوں میں کئی مزید لیگی رہنما باضابطہ طور پر اپنی پوزیشن واضح کریں گے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے واضح موقف ہے، گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، وفاق کے تعاون سے گلگت بلتستان کی معاشی ترقی اور سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، اشیائے ضروریہ کی قمتیں نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں، جنوری تک عوام واضح فرق دیکھیں گے۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے گزشتہ سال دھرنے میں مولانا فضل الرحمان کو دغہ دیا تھا اور آج بھی ان کے اندر خدشات پائے جاتے ہیں، بلاول بھٹو کے انٹرویو کے بعد ان کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں، پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی الگ ہے، ان میں کچھ بھی مشترک نہیں اسلئے انہیں عوام میں پذیرائی نہیں مل رہی، اپوزیشن جماعتوں میں صرف ایک چیز متفق ہے کہ حکومت پر دبائوڈالیں تاکہ بدعنوانی مقدمات سے ریلیف حاصل کر سکیں لیکن یہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ممکن نہیں ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف نے ذاتی مفادات کیلئے بیانات دیئے، ن لیگ کے لوگوں کو بھی اس بات کا احساس ہے وہ قانونی سولات سے ریلیف چاہتے ہیں اسلئے وہ ان سے نالاں ہیں، عبدالقادر بلوچ اور ثناءاللہ زہری بھی ن لیگ چھوڑ چکے ہیں، کئی لیگی رہنما ہمارے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور جلد ہی کئی لیگی رہنما باضابطہ طور پر اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں متضاد سیاست کر رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان کا بیٹا الیکشن میں جیت جائے تو وہ ٹھیک، وہ ہار جائیں تو غلط، اسی طرح شاہد خاقان عباسی آبائی حلقے میں شکست کھا جائیں تو وہ غلط اور لاہور سے جیت جائیں تو وہ ٹھیک، پی ڈی ایم کا ناٹک عوام کے سامنے عیاں ہو رہا ہے، اگر ملک میں جمہوری نظام نہیں ہے تو اپوزیشن جماعتیں گلگت بلتستان انتخابات میں کیوں حصہ لے رہی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے موقع ملنے کے باوجود گلگت بلتستان کے لوگوں کیلئے کچھ نہیں کیا، گلگت بلتستان کے عوام سیاسی طور پر میچور ہیں اور وہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کریں گے، اپوزیشن کا دھاندلی کا واویلا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ انتخابات ہار جائیں گے، گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور اسے عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے وفاقی حکومت کا موقف واضح ہے، پی ٹی آئی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، گلگت میں خصوصی اقتصادی زون بنانے اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت جب اقتدار میں آئی تو ملک بحران کا شکار تھا اور معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی، سابقہ حکومتوں نے بنیادی طور پر پاکستان کو امپورٹ بیسڈ ملک بنا دیا جس کی وجہ سے ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوئی، موجودہ حکومت نے آتے ہی اخراجات کم کئے اور آمدنی بڑھائی اور اب معاشی اشاریے مثبت سمت کی طرف گامزن ہیں، جوں جوں معیشت بہتر ہوتی جائے گی مہنگائی میں بھی بتدریج کمی ہوتی جائے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان عوام کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کر رہے ہیں، حکومت خیبرپختونخوا کی طرح غریب اور مستحق لوگوں کیلئے یونیورسل ہیلتھ انشورنس سسٹم متعارف کرانے جا رہی ہے جس میں 10 لاکھ روپے تک وہ مفت علاج کرا سکیں گے، ملکی تاریخ میں پہلے کبھی اسطرح کا پروجیکٹ نہیں آیا۔







