اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ چترال کے لئے پروازوں کی بندش کی بنیادی وجوہات طیاروں کی کمی اور مسافروں کی کم تعداد ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی تحریک ،جس میں چترال ایئرپورٹ کے لئے پروازوں کی بحالی کی ضرورت پر بحث کا مطالبہ …
چترال کیلئے پروازوں کی بندش کی بنیادی وجوہات طیاروں کی کمی اور مسافروں کی کم تعداد ہے، طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔1دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ چترال کے لئے پروازوں کی بندش کی بنیادی وجوہات طیاروں کی کمی اور مسافروں کی کم تعداد ہے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی تحریک ،جس میں چترال ایئرپورٹ کے لئے پروازوں کی بحالی کی ضرورت پر بحث کا مطالبہ کیا گیا تھا،پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے بتایا کہ پی آئی اے 2022 تک چترال کے لئے اے ٹی آر طیارے چلا رہی تھی جن میں مسافروں کا لوڈ 64 فیصد تھا جو بعد ازاں کم ہوکر 41 فیصد رہ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس صرف دو اے ٹی آر طیارے موجود ہیں جس کے باعث پروازوں کی بحالی میں مشکلات درپیش ہیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید بتایا کہ ماضی میں پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل نہیں ہوسکا تھا تاہم اب نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ کے لئے پروازوں سے متعلق سوال پر انہوں نے یقین دلایا کہ ارکان کے تحفظات پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تک پہنچائے جائیں گے۔سینیٹر شیری رحمٰن کی جانب سے ایوی ایشن ڈویژن کی قائمہ کمیٹی کی بحالی کے مطالبے پر جواب دیتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایوان کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے سے وزیراعظم کو آگاہ کریں گے۔








