چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جامع طرزِ حکمرانی، امن، مکالمے اور سب کے لئے مساوی مواقع کے عزم کی تجدید پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ باہم مربوط ہوتی دنیا میں پائیدار ترقی اور انسانی بااختیاری کا عالمی امن اور استحکام سے گہرا تعلق ہے۔انہوں نے یہ بات تنزانیہ کے شہر اروشا میں بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ …
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا جامع طرزِ حکمرانی، امن اور عالمی تعاون کے فروغ پر زور

مزید خبریں
اروشا۔6اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے جامع طرزِ حکمرانی، امن، مکالمے اور سب کے لئے مساوی مواقع کے عزم کی تجدید پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ باہم مربوط ہوتی دنیا میں پائیدار ترقی اور انسانی بااختیاری کا عالمی امن اور استحکام سے گہرا تعلق ہے۔انہوں نے یہ بات تنزانیہ کے شہر اروشا میں بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی 153ویں اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اسمبلی کا موضوع ”شمولیت، اعتماد اور سب کے لئے مواقع کے ذریعے بہتر طرزِ حکمرانی کا فروغ اور معاشروں کو بااختیار بنانا“ ہے۔
سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ شمولیت، اعتماد، امن اور مواقع کے اصول صرف ریاستوں کے اندر طرزِ حکمرانی تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ انہیں اقوام کے باہمی تعلقات کی بنیاد بھی بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام، مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کے لئے پرعزم ہے، موجودہ دور میں دنیا کو تنازعات، دہشت گردی، انسانی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا سامنا ہے، ایسے میں پارلیمانیں اقوام کے درمیان افہام و تفہیم کے فروغ اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران کے دوران پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلسل کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور جنگ بندی کی حمایت کرتا رہا ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لئے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطین کے مسئلے کے متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا۔چیئرمین سینیٹ نے جموں و کشمیر کے تنازعہ پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت حاصل ہونا چاہئے۔ انہوں نے غیر حل شدہ تنازعات اور کشیدگی کے معاملات پر مسلسل عالمی توجہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لئے تنازعات کی بنیادی وجوہات کو پرامن ذرائع اور مکالمے کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔سید یوسف رضا گیلانی نے امن و سلامتی کے فروغ میں علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیا اور اسے علاقائی استحکام کے لئے اجتماعی ذمہ داری اور تعاون کا مظہر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر پائیدار ترقی اور سلامتی کے بغیر حقیقی بااختیاری ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور امن و سلامتی کے لیے عالمی اور علاقائی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے پارلیمانی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان جامع وفاقیت کے اصول کی عکاسی کرتا ہے اور تمام وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے معاشرے کے پسماندہ اور محروم طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کی سیاسی و آئینی شرکت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے اسلام آباد میں منعقدہ بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس کا بھی ذکر کیا جس میں 40 سے زائد ممالک کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی اور کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد اعلامیہ منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلامیے کے رہنما اصول ”اختلاف کے بجائے مکالمہ، تقسیم کے بجائے شمولیت اور محرومی کے بجائے ترقی“ آج عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بھی نہایت اہم ہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جمہوریت کی حقیقی طاقت انسانی وقار کے تحفظ، امن کے فروغ اور سب کے لیے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔ انہوں نے پارلیمانوں پر زور دیا کہ وہ مکالمے کو فروغ دیں، پارلیمانی سفارت کاری کو مزید مضبوط بنائیں اور ایک زیادہ پُرامن، جامع اور منصفانہ عالمی نظام کے قیام کے لیے اجتماعی کوششیں کریں۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اروشا میں آئی پی یو برادری سے وابستہ مختلف ممالک کے پارلیمانی وفود کی شرکت اس امر کی عکاس ہے کہ اقوام کے درمیان مکالمے کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب عالمی برادری کو گہرے چیلنجز کا سامنا ہے، یہاں ہماری اجتماعی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اختلافات ہمیں ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے ضروری نہیں، بلکہ مکالمے، باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے پارلیمانیں تقسیم کے مقامات پر پل تعمیر کرنے اور ایک زیادہ پُرامن اور محفوظ دنیا کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔








