اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی دیمک سے بڑھ کر ناسورکی صورت اختیار کر چکی ہے جس کا واحد علاج سرجری ہے تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ”ہمارا ایمان کرپشن فری پاکستان“ کے موضوع پر قومی احتساب بیورو اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے …
چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ”ہمارا ایمان کرپشن فری پاکستان“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 دسمبر (اے پی پی) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی دیمک سے بڑھ کر ناسورکی صورت اختیار کر چکی ہے جس کا واحد علاج سرجری ہے تاکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ”ہمارا ایمان کرپشن فری پاکستان“ کے موضوع پر قومی احتساب بیورو اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے، نیب نے ان لوگوں پہ بھی ہاتھ ڈالا جن کے خلاف کوئی کارروائی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، اب ملک میں صرف آئین اورقانون کی حکمرانی ہو گی، نیب میں چہرہ نہیں بلکہ کیس کی بنیاد پر قانون کے مطابق تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف انکوائریا ں اور انویسٹی گیشنز جا ری ہیں۔ چئیرمین نیب نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نیب نے احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 440 ریفرنس دائر کئے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ہم میں سے ہر شخص بدعنوانی کاخاتمہ چاہتا ہے، ہم دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں لیکن اپنے آپ سے شروع نہیں کرتے، بدعنوانی کا واحد علاج خود احتسابی ہے، اگر ہم خود احتسابی پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی، اقرباءپروری اور رشوت ستانی سے گریز کریں گے تو اس سے نہ صرف بدعنوانی میں کمی واقع ہو گی بلکہ کرپشن فری پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں مدد ملے گی۔








