چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب کا جائزہ اجلاس

اسلام آباد ۔ 12 مئی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن ( یو این سی اے سی) کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے لئے فوکل ادارہ ہے، نیب مضاربہ/مشارکہ مقدمات کو منطقی انجام تک پہچانے کیلئے پرعزم ہے۔ مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کے مقدمات کی ٹھوس شواہد اور میرٹ پر مو¿ثر پیروی کی …

اسلام آباد ۔ 12 مئی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن ( یو این سی اے سی) کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے لئے فوکل ادارہ ہے، نیب مضاربہ/مشارکہ مقدمات کو منطقی انجام تک پہچانے کیلئے پرعزم ہے۔ مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کے مقدمات کی ٹھوس شواہد اور میرٹ پر مو¿ثر پیروی کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈکوارٹرز میںجائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن ( یو این سی اے سی) کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے لئے فوکل ادارہ ہے ۔نیب کو اصلاحات کے ذریعے فعال اور معتبر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے 2019ءمیں بدعنوانی کی روک تھام کےلئے کئے گئے اقدامات بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی مہم کامیاب رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیب کرپشن فری پاکستان پر یقین رکھتا ہے، اسی تناظر میں بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کی رقم کی ان کی دہلیز پر واپسی کے لئے آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھے گا۔عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر ادارے نے عالمی مسابقتی انڈیکس2019کی رپورٹ میںکرپشن فری پاکستان کیلئے نیب کی شاندار کارکردگی کی تعریف کی ہے´ چئیرمین نیب نے کہاکہ مضاربہ/مشارکہ مقدمات کو منطقی انجام تک پہچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ تاکہ مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کے تمام متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقم قانون کے مطابق جلد واپس کی جا سکے۔مضاربہ کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد نے غلام رسول ایوبی اور نجمالدین کو11سال قید اور 67ملین روپے جرمانہ کی سزا سنائی،ملزمان پر الزامات درست ثابت ہوئے اور احتساب عدالت اسلام آباد نے دونوں ملزموں کی جائداد ضبط کرنے کا حکم دیا۔ ایک اور مضاربہ کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد نے مفتی احسان الحق اور ان کے 9 شریک ملزمان کو 10 سال قید اور ایک ارب روپے جرمانہ کی سزا سنائی، یہ نیب کی تاریخ کی سب سے زیادہ سزا ہے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر میسرز فیاضی گروپ آف انڈسٹریز مفتی احسان الحق اور دیگر 9 ملزمان کے خلاف احتساب عدالت اسلام آباد میں نیب راولپنڈی نے جامع اور ٹھوس شواہد پیش کئے، اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیب راولپنڈی نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں 30 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں، 644.877837 ملین روپے برآمد کئے ہیں جبکہ منجمد کئے گئے اثاثوں کی مالیت 1646.5 ملین روپے ہے، ان مقدمات میں متاثرین کی تعداد 31 ہزار 524 ہے جبکہ مفتی احسان الحق، مفتی ابرار الحق، حافظ محمد نواز، معین اسلم، عبید اللہ، مفتی شبیر احمد عثمانی، سجاد احمد، آصف جاوید، غلام رسول ایوبی، محمد حسین احمد، حامد نواز، محمد عرفان، بلال خان بنگش، مطیع الرحمن، محمد نعمان قریشی، سیّد عکشید حسین، محمد عادل بٹ، محمد ثاقب، عمیر احمد، عقیل عباسی، مفتی حنیف خان، نذیر احمد ابراہیم اور سیف اللہ سمیت 45 ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب راولپنڈی کی کارکردگی کی تعریف کی ۔انہوں نے کہا کہ نیب مضاربہ/مشارکہ مقدمات کو منطقی انجام تک پہچانے کیلئے پرعزم ہے ۔ تمام افسران و اہلکاران کو ہدایت کی ہے کہ وہ مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کے بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم کی وصولی کیلئے بھرپور کوششیں کریں۔ چیئرمین نیب نے یہ بھی ہدایت کی کہ بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں تاکہ مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کے تمام متاثرین کو ان کی لوٹی گئی رقم جلد واپس کی جا سکے۔ چیئرمین نیب نے یہ بھی ہدایت کی کہ مضاربہ/مشارکہ سکینڈلز کے مقدمات کی ٹھوس شواہد اور میرٹ پر مو¿ثر پیروی کی جائے ۔

مزید خبریں