اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید(ریٹائرڈ) نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم کے فور پراجیکٹ کا دو روزہ دورہ کیا اور پراجیکٹ کی اہم سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ مذکورہ سائٹس میں ضلع ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل پر زیرتعمیر ان ٹیک سٹرکچر اور دو پمپنگ سٹیشن، کینجھر جھیل سے کراچی تک ہائی پریشرآئزڈ پائپ لائنوں پر مشتمل پانی کی منتقلی کے نظام …
چیئرمین واپڈا کا گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم کے فور پراجیکٹ کا دورہ، تعمیراتی کام کا جائزہ لیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔29نومبر (اے پی پی):چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید(ریٹائرڈ) نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی سکیم کے فور پراجیکٹ کا دو روزہ دورہ کیا اور پراجیکٹ کی اہم سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ مذکورہ سائٹس میں ضلع ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل پر زیرتعمیر ان ٹیک سٹرکچر اور دو پمپنگ سٹیشن، کینجھر جھیل سے کراچی تک ہائی پریشرآئزڈ پائپ لائنوں پر مشتمل پانی کی منتقلی کے نظام پر اہم تعمیراتی مقامات اور کراچی میں زیر تعمیر فلٹریش پلانٹ شامل ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کراچی شہر میں پانی کی ضروریات پورا کرنے کے لئے وفاقی حکومت نے واپڈا کو کے فور پراجیکٹ تعمیر کرنے کی ذمہ داری تفویض کی تھی۔کےفور پراجیکٹ کے دورے پر جنرل منیجر اور پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے ہمراہ چیئرمین واپڈا کو ہر کنٹریکٹ پیکج پر اب تک مکمل کئے گئے کام، مستقبل کے اہداف اور ان کی تکمیل کے شیڈول بارے بریفنگ دی۔
تیز تر بنیاد پر تکمیل کیلئے کے فور پراجیکٹ کو آٹھ مختلف کنٹریکٹ پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور تمام پیکجز کی اہم سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ پراجیکٹ 64 فیصد مکمل ہوچکا ہے اور اس پر اب تک 86 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اگر درکار فنڈز مہیا کردیے جائیں تو واپڈا یہ منصوبہ 2026 کے دوران مکمل کر سکتا ہے۔ بریفنگ کے دوران پراجیکٹ پر مالی پیش رفت اور مستقبل کی مالی ضروریات بارے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کراچی شہر کیلئے کے فور پراجیکٹ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کنٹریکٹرز کو تاکید کی کہ وہ اضافی وسائل کی دستیابی یقینی بناتے ہوئے تعمیراتی کام میں تیزی لائیں تاکہ تعمیراتی اہداف بروقت حاصل کئے جا سکیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائپ لائن 2 کے کنٹریکٹ پیکج پربالخصوص کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نے پراجیکٹ ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران سندھ حکومت سے قریبی اور موثر رابطہ برقرار رکھیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت کراچی شہر میں پانی تقسیم کرنے کے نظام میں توسیع کرنے کے منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرے گی تاکہ کے فور پراجیکٹ سے پوری طرح فائدہ اٹھایا جاسکے۔کے فور پراجیکٹ کراچی شہر کو روزانہ 650 ملین گیلن پانی مہیا کرنے کیلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ دو مراحل میں مکمل ہوگا۔ اس وقت واپڈا کےفور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر کام کررہا ہے، جس کے مکمل ہونے پر کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم ہوگا۔ کے فور پراجیکٹ کا دوسرا مرحلہ تعمیر ہونے پر کراچی کو مزید 390 ملین گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جا سکے گا۔
قبل ازیں چیئرمین واپڈا نے سندھ کے ضلع دادو میں نائے گاج ڈیم پراجیکٹ کی تمام ورک سائٹس کا بھی دورہ کیا۔ ان کے دورے کا مقصد پراجیکٹ سائٹ پر صورت حال کا جائزہ لینا اور پراجیکٹ پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرنے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دینا تھا، جو فروری 2025 سے متعدد وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔ ان وجوہات میں کنٹریکٹر کا عدالت سے رجوع، ماضی میں تعمیراتی کام کی انتہائی سست رفتار اور مالی مسائل شامل ہیں۔جنرل منیجر پراجیکٹس ساوتھ واپڈا، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کنسلٹنٹس بھی چیئرمین واپڈا کے دورے کے موقع پر موجود تھے۔نائے گاج ڈیم پراجیکٹ مکمل ہونے پر 28 ہزار 800 ایکڑ بنجر زمین زیرکاشت آئے گی۔ پراجیکٹ کی بدولت مقامی لوگوں کو 4 اعشاریہ 2 میگاواٹ سستی پن بجلی بھی فراہم ہوگی۔








