چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد کا سوات کا دورہ، مستحق خواتین کو ڈیجیٹل والٹ اور بینظیر فری سم کے حوالے سے آگاہی

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے ہفتہ کو ضلع سوات کےعلاقوں بری کوٹ اور بابوزئی، مینگورہ میں واقع بی آئی ایس پی تحصیل دفاتر کا دورہ کیا۔ رکن صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

سوات۔11جولائی (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے ہفتہ کو ضلع سوات کےعلاقوں بری کوٹ اور بابوزئی، مینگورہ میں واقع بی آئی ایس پی تحصیل دفاتر کا دورہ کیا۔ رکن صوبائی اسمبلی مہر سلطانہ ایڈووکیٹ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نےمستحق خواتین سے ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو ان کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے خواتین بینیفشریز کو ڈیجیٹل والٹ کے محفوظ اور درست استعمال،امدادی رقم کی مکمل وصولی اور کسی بھی قسم کی غیرقانونی کٹوتی سے بچاؤ کےحوالے سے بھی آگاہی فراہم کی۔چیئرپرسن نے خواتین بینیفشریز کو بتایا کہ ڈیجیٹل والٹ ایکٹیویشن مفت جبکہ رقم نکلوانے کے سروس چارجز 280 روپے مقرر ہے

۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستحق خواتین کی امدادی رقم ان کے ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ رہتی ہے، اس لیے اسے فوری طور پر نکلوانے کی ضرورت نہیں۔ خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت متعلقہ بینک کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے اپنی مکمل رقم حاصل کر سکتی ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے اپنی نگرانی میں وہاں موجود خواتین بینیفشریز کو مفت بینظیر سم فراہم کروائیں اور انہیں بینظیر فری سم کی افادیت اور ڈیجیٹل والٹ کے مؤثر استعمال کے حوالے سےعملی رہنمائی بھی فراہم کی۔انہوں نے بینظیر فری سم کی تقسیم کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ یہ عمل مکمل شفافیت، سہولت اور نظم و ضبط کے ساتھ جاری رکھا جائے۔

چیئرپرسن روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے افسران اور عملے کو ہدایت کی کہ تمام مستحق خواتین کے ساتھ ہر مرحلے پر عزت واحترام سے پیش آیا جائے اور انہیں بروقت، شفاف اور باوقار خدمات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحق افراد کی خدمت صرف ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ اور عبادت ہے جبکہ دکھی انسانیت کی خدمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم اجر و ثواب کا باعث ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی خیبرپختونخوا الف جان آفریدی بھی موجود تھے۔