چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا سنٹرل پولیس آفس کے دورہ کے موقع پر افسران سے خطاب

لاہور۔23 نومبر(اے پی پی )چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بطورچیف جسٹس میری پہلی ترجیح عدالت میں پیش ہونیوالوں کے احترام کی بحالی رہی ہے کیو نکہ ، عدالتوں میں پیش ہونیوالے حکام کااحترام نہیں کیاجاتاتھا، میری پہلی ترجیح رہی ہے کہ عدالت بطورعدالت ہی کام کرے،ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔اعلیٰ حکام کی عدالتوں میں بار بار پیشی میرے …

لاہور۔23 نومبر(اے پی پی )چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بطورچیف جسٹس میری پہلی ترجیح عدالت میں پیش ہونیوالوں کے احترام کی بحالی رہی ہے کیو نکہ ، عدالتوں میں پیش ہونیوالے حکام کااحترام نہیں کیاجاتاتھا، میری پہلی ترجیح رہی ہے کہ عدالت بطورعدالت ہی کام کرے،ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔اعلیٰ حکام کی عدالتوں میں بار بار پیشی میرے نزدیک درست نہیں۔ سپریم کورٹ انصاف کی اعلیٰ ترین آخری عدالت ہے۔ہفتہ کے روز لاہور میںسنٹرل پولیس آفس میں دورے کے موقع پر افسران سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اعلیٰ حکام کی عدالتوں میں بار بار پیشی میرے نزدیک درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ انصاف کی اعلیٰ ترین آخری عدالت ہے۔ عدالت پیشی کے موقع پر کسی بھی شخص کا احترام محلوظ رکھا جائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب بھی ملک میں کوئی مسئلہ عوامی توجہ حاصل کرتا تو سوموٹوکی توقع کی جاتی ۔ کسی میں گواہی دینے کی ہمت نہیں تو انصاف نہ مانگیں، تہیہ کرلیں کہ ہم نے جھوٹی گواہی کونہیں ماننا، انصاف کرنا مقصدنہیں بلکہ قانون کے مطابق انصاف کرنا ہمارا مقصدہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ پولیس افسران نے بھی پولیس اصلاحات کمیٹی میں کردار ادا کیا، پولیس اصلاحات کے لیے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کمیٹی تشکیل دی، بطور وکیل اور جج پولیس کے ساتھ ہمیشہ بہتر تعلق رہا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ میرے زمانہ طالبعلمی سے ہی پولیس کے ساتھ لگاؤ ہے، 1976ء میں زمانہ طالبعلمی کے دوران پولیس کے ساتھ اچھے تعلق کی ایک بڑی وجہ میرا گھرانہ بھی ہے کیونکہ میرے بڑے بھائی پولیس میں سروس انجام دے چکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں آئی جیزکا بہت مشکورہوں کہ ہرضلع میں شکایت کیلئے ایس پی مقررکیے اب لوگوں کواپنی شکایات کے لیے مقدمے اورعدالت کی ضرورت نہیں رہی، ایک لاکھ 20ہزارشکایات میں سے ایس پی کی سطح پر80 فیصد مسئلے حل ہوئے اور شکایات کرنیوالے ان فیصلوں سے مطمئن ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فوری فراہمی کے لیے ماڈل کورٹس شروع کی گئیں ماڈل کورٹس کی وجہ سے عدالتوں میں انقلاب آیا، میری اوّلین ترجیح عدالتوں میں پیش ہونے والوں کا وقار برقرار رکھنا ہے۔ ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب ملک میں عوامی نوعیت کا کوئی واقعہ پیش آتا تو شور مچ جاتا ہے کہ چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینا چاہیے،لیکن سپریم کورٹ انصاف فراہم کرنے کا آخری ادارہ ہے جسے پہلا پلیٹ فارم نہیں بننا چاہیے، پہلے دن ہی مداخلت کی جائے تو معاملات الجھ جاتے ہیں،کچھ کیسزمیں نوٹس لیاگیا اورکہا گیا دہشت گردی کامعاملہ ہے لیکن بعد میں معاملہ ذاتی دشمنی کا نکلا،تب ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے بچنے کیلئے ضلعی کمیٹیوں کا کردار اہم ہے، انصاف کی تیز تر فراہمی میں پولیس تفتیش کا بنیادی کردار ہے، اصلاحات کی بدولت ہائی کورٹس میں اپیلیں دائر ہونے میں پندرہ فیصد کمی آئی۔اس سے قبل سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت ریفارمز کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران پولیس اصلاحات کے بارے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ چیف جسٹس نے عدالتوں میں اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی تعداد میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اندراج مقدمہ کی درخواستوں کے اضافہ سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ پولیس اصلاحات پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ تھانہ میں مقدمات کی بروقت اندراج کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے پولیس کمپلینٹ سیل میں موصول شکایات کے فوری ازالہ کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے معیار کو بہتر کرنے سے متعلق اقدامات یقینی بنایا جائے۔ ملزموں کی بریت ،اور ضمانتوں سے متعلق کیسز پر جواب بروقت جمع کرایا جائے۔اجلاس میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹرجسٹس گلزار احمد ، وفاقی سیکرٹری قانون ڈاکٹر رحیم اعوان، آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار، آئی جی آزاد کشمیر صلاح الدین خان اور آئی جی گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی ، آئی جی پنجاب عارف نواز اور آئی جی سندھ سید کلیم امام ، آئی جی بلوچستان محسن حسن بٹ اور آئی جی کے پی کے محمد نعیم اعوان ، ڈی جی ایف آئی اے اعجاز حسین کی بھی شرکت کی۔