کوالالمپور۔27اکتوبر (اے پی پی):چینی اور امریکی وفود ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں دو روزہ مذاکرات کے بعد متعلقہ تجارتی خدشات کو دور کرنے کے انتظامات پر بنیادی اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں ۔چینی خبر رساں ادارے شنہوا کی رپورٹ کے مطابق چین کے نائب وزیر اعظم ہی لائی فنگ نے کوالالمپور میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے ساتھ دو روز تک …
چینی اور امریکی وفود ملائیشیا میں دو روزہ مذاکرات کے بعد متعلقہ تجارتی خدشات کو دور کرنے کے انتظامات پر بنیادی اتفاق رائے پر پہنچ گئے

مزید خبریں
کوالالمپور۔27اکتوبر (اے پی پی):چینی اور امریکی وفود ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں دو روزہ مذاکرات کے بعد متعلقہ تجارتی خدشات کو دور کرنے کے انتظامات پر بنیادی اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں ۔چینی خبر رساں ادارے شنہوا کی رپورٹ کے مطابق چین کے نائب وزیر اعظم ہی لائی فنگ نے کوالالمپور میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر کے ساتھ دو روز تک جاری رہنے والے مامذاکرات کے بعد کہا کہ چین اور امریکا کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا اصل مقصد دونوں ممالک کا فائدہ ہے جو کسی کی ہار نہیں بلکہ دونوں کی جیت ہے جبکہ محاز آرئی میں دونوں کا نقصان ہے۔
رواں سال کے آغاز سے دونوں ممالک کے صدور کی فون پر ہونے والی بات چیت میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دونوں فریقوں نے باہمی تشویش کے اہم تجارتی اور اقتصادی امور پر واضح، گہرائی سے اور تعمیری تبادلہ خیال کیا جن میں چین کے سمندری، لاجسٹکس اور بحری جہازوں کی تعمیر نو کے شعبے کی بحالی کے لئے امریکی سیکشن 301 کے اقدامات شامل ہیں۔ فریقین نے ٹیرف، فینٹینیل سے متعلقہ ٹیرف اور قانون نافذ کرنے والے تعاون، زرعی مصنوعات کی تجارت اور برآمدی کنٹرول پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے مخصوص تفصیلات پر کام کرنے اور ہر فریق کی طرف سے اپنی اپنی پارلیمانوں سے منظوری حاصل کرنے کے عمل کرنے پر اتفاق کیا۔
چین کے نائب وزیر اعظم ہی لائی فنگ نے کہا کہ چین امریکا کی مستحکم ترقی کو برقرار رکھنا اور باہمی تجارتی تعلقات دونوں ممالک اور عوام کے مشترکہ مفادات کو پورا کرتے ہیں اور بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورا اترتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی اور تجارتی اختلافات اور تنازعات کے حوالے سے دونوں فریقین کو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ تعاون کے اصولوں کو برقرار رکھنا چاہیے، برابری کی بنیاد پر بات چیت اور مشاورت کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تحفظات کو مناسب طریقے سے دور کرنے کے طریقے تلاش کرنے چاہیئں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی طرف سے مشکل سے حاصل کی گئی کامیابیوں سے استفادہ کرنے اور اقتصادی اور تجارتی مشاورت کے لئے دونوں اطراف سے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے امریکی فریق پر زور دیا کہ وہ چین کے ساتھ اسی سمت میں کام کرے، دونوں سربراہان مملکت کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنائے اور ساتھ ہی رواں سال ہونے والے دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے فوائد پر عمل درآمد کرے، باہمی اعتماد کو مزید فروغ دے، اختلافات کو دور کرے، باہمی فائدہ مند تعاون کو بڑھایا جائے اور چین۔امریکا کےدرمیان تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ اقتصادی اور تعلقات کو اعلیٰ سطح پر لے جایا جائے۔ مذاکرات کے بعد امریکی حکام نے کہا کہ امریکا اور چین کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات دنیا بھر میں سب سے زیادہ بااثر ممالک کے دوطرفہ تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے چین کے ساتھ برابری اور احترام کے جذبے کے ساتھ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اختلافات کو درست طریقے سے دور کرنے، تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقی کو فروغ دینے کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں سربراہان مملکت کی سٹریٹجک رہنمائی کے تحت وہ چین امریکا تعلقات کا بھرپور استعمال کریں گےتاکہ دونوں لوگوں کو فائدہ پہنچے اور عالمی خوشحالی میں حصہ ڈال سکیں۔








