بیجنگ۔14مارچ (اے پی پی):چین کی قومی عوامی کانگریس اور عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے ایجنڈے کے تحت متعدد امور کامیابی سے مکمل کئے گئے ہیں۔ سی جی ٹی این کے مطابق پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کو عالمی سطح پر چین کی ایجاد قرار دیا جا رہا ہے۔ 1953 سے 2026 تک( پہلے سے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے تک )"انتہائی پسماندگی"سے تیز رفتار اقتصادی ترقی اور طویل مدتی سماجی …
چینی عوامی کانگریس اور سیاسی مشاورتی کانفرنس کے ایجنڈے کے متعدد امور کامیابی سے مکمل ہوگئے، رپورٹ

مزید خبریں
بیجنگ۔14مارچ (اے پی پی):چین کی قومی عوامی کانگریس اور عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کے ایجنڈے کے تحت متعدد امور کامیابی سے مکمل کئے گئے ہیں۔ سی جی ٹی این کے مطابق پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کو عالمی سطح پر چین کی ایجاد قرار دیا جا رہا ہے۔ 1953 سے 2026 تک( پہلے سے پندرھویں پانچ سالہ منصوبے تک )”انتہائی پسماندگی”سے تیز رفتار اقتصادی ترقی اور طویل مدتی سماجی استحکام حاصل کیا گیا، معاشی اور سماجی ترقی تمام مسائل کے حل کی ابتدائی کنجی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پانچ سالوں میں اعلیٰ معیار کی ترقی کا راستہ کیسے طے کیا جائے گا، کے حوالے سے رواں سال کی حکومتی ورک رپورٹ میں جدید صنعتی نظام کی تعمیر، ابھرتی صنعتوں کو مضبوط بنانے، مستقبل کی صنعتوں کی منصوبہ بندی، تحقیق و ترقی کے اخراجات میں اوسطاً 7 فیصد سے زائد سالانہ اضافے، ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی شعبے کی اضافی قیمت کا جی ڈی پی میں حصہ 12.5 فیصد تک بڑھانے جیسے اہداف شامل ہیں۔ چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں کیے گئے اقدامات چین کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو مزید جدید بنائیں گے۔ حکومت کی ورک رپورٹ میں پہلی بار "ذہین معیشت کی نئی شکل تشکیل دینے” کا ذکر بھی کیا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ مصنوعی ذہانت معیاری ترقی کو تیز کرنے والی طاقت بن جائے گی۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں پیش کیا گیا ہے کہ طلب میں اضافے کو ایک سٹریٹجک بنیادی نکتے کے طور پر برقرار رکھا جائے گا تاکہ بڑے پیمانے پر مارکیٹ کے منافع کو پوری طرح سے بروئے کار لایا جا سکے۔ اس سال چینی حکومت "مضبوط ملکی مارکیٹ کی تعمیر” کو اولین ترجیح قرار دے گی، اس کے علاوہ چین دنیا کے لیے اپنے دروازے مزید کھولے گا۔ اس سال کی حکومتی ورک رپورٹ میں خودمختار کھلے پن کو فعال طور پر بڑھانے، دو طرفہ سرمایہ کاری اور تعاون کو وسیع کرنے، غیر ملکی تجارت کے استحکام اور ساخت کی بہتری اور ” بیلٹ اینڈ روڈ ” کی اعلٰی میعار کی تعمیر جیسے اقدامات اختیار کیے گئے ہیں جو چین کے کھلے پن کو مستحکم طور پر بڑھانے کے عزم اور کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔








