چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ برداشت نہیں ہوگا، حکومت کا ملک گیر کریک ڈاؤن کا عندیہ

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چینی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے )، صوبائی زرعی محکموں اور ملک بھر سے اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد چینی کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایکس مل ریٹ 165 …

اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چینی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے )، صوبائی زرعی محکموں اور ملک بھر سے اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد چینی کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایکس مل ریٹ 165 روپے فی کلوگرام پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا ۔وفاقی وزیر نے ان اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ متعدد شوگر ملز سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت کی خلاف ورزی کر رہی ہیں جس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ ہو رہا ہے اور عوام پر بلاجواز بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس طرح کی منڈی میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے پی ایس ایم اے کو سختی سے خبردار کیا کہ اگر ایسوسی ایشن اپنے ارکان کو حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی تو حکومت ازخود منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور زائد قیمتوں پر چینی فروخت کرنے والی ملوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کرے گی۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے چینی کی فراہمی کے نظام میں شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر عملدرآمد کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں اور اضلاع کی سطح پر نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی فوری نشاندہی اور روک تھام ہو سکے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ وزارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور صوبائی فوڈ اتھارٹیز سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھ کر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کو دہرایا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور چینی کی بلا تعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

 

مزید خبریں