چین اور پاکستان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کو کان کنی تک محدود رکھنے کے بجائے فل ویلیو چین کی بنیاد پرجامع سطح تک لے جانا چاہتے ہیں، چینی سفیر

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کو صرف کان کنی تک محدود رکھنے کے بجائے فل ویلیو چین کی بنیاد پر اعلیٰ اور جامع سطح تک لے جانا چاہتے ہیں جس میں تلاش، پیداوار، پروسیسنگ، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور تربیت شامل ہو۔ چین-پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے …

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون کو صرف کان کنی تک محدود رکھنے کے بجائے فل ویلیو چین کی بنیاد پر اعلیٰ اور جامع سطح تک لے جانا چاہتے ہیں جس میں تلاش، پیداوار، پروسیسنگ، تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور تربیت شامل ہو۔

چین-پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ اس تعاون کا مقصد نہ صرف معدنی وسائل کے بہتر استعمال کو فروغ دینا ہے بلکہ پاکستان میں اپ سٹریم اور ڈائون سٹریم صنعتی ترقی، مقامی افرادی قوت کی تربیت اور معاشی و سماجی ترقی کو کان کنی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے تاہم بیشتر چھوٹے اور درمیانے درجے کے منصوبے سرمائے، ٹیکنالوجی اور مہارت کی کمی کا شکار ہیں، چین فل ویلیو چین تعاون کے ذریعے پاکستان کو اس قابل بنانا چاہتا ہے کہ وہ خام مال کی برآمد کے بجائے مقامی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کی طرف بڑھے۔

چینی سفیر نے ماحول دوست ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین گرین مائننگ کے فروغ کا حامی ہے اور پاکستان میں بھی کان کنی کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ڈڈار منصوبے کو سبز کان کنی کی کامیاب مثال قرار دیا۔

جیانگ ژائی ڈونگ نے کہا کہ چین کان کنی کے منصوبوں میں مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے، جیسا کہ سی پیک اور سینڈک منصوبے کے تحت روزگار، تربیت اور سماجی ترقی کے اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے 15 ویں پانچ سالہ منصوبے اور پاکستان کے اڑان پاکستان پروگرام کے تناظر میں دونوں ممالک معدنی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں تاکہ چین-پاکستان تعلقات کو سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔