بیجنگ۔20مارچ (اے پی پی):کمیونسٹ پارٹی آف چائنا چین میں طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جہاں حکومتی کارکردگی کا معیار محض اعداد و شمار یا دعووں پر نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری اور زمینی حقائق پر مبنی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق، صحراؤں کے مسائل کا خاتمہ، آبی وسائل کا مؤثر انتظام اور دیہی ترقی جیسے منصوبے قلیل مدتی …
چین میں ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی عوامی فلاح و بہبود اور زمینی حقائق پر مبنی ہے ، چینی میڈیا

مزید خبریں
بیجنگ۔20مارچ (اے پی پی):کمیونسٹ پارٹی آف چائنا چین میں طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کو عملی شکل دینے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جہاں حکومتی کارکردگی کا معیار محض اعداد و شمار یا دعووں پر نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری اور زمینی حقائق پر مبنی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق، صحراؤں کے مسائل کا خاتمہ، آبی وسائل کا مؤثر انتظام اور دیہی ترقی جیسے منصوبے قلیل مدتی نہیں بلکہ تین نسلوں اور کئی دہائیوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجہ میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، 6,000 مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلا کوبوچی صحرا اب سرسبز ہو چکا ہے اور مقامی لوگ پودوں اور جڑی بوٹیوں کی کاشت کے ذریعے روزی کماتے ہیں۔
اسی طرح صوبہ زے جیانگ میں 2003 میں شروع ہونے والا "دیہی ترقیاتی منصوبہ” دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے، جس میں صفائی، نکاسیٔ آب، دیہی سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات مرحلہ وار مکمل کیے گئے ہیں۔ اب من جیانگ دریا کے کنارے رہنے والے شہری تفریحی راستوں پر چہل قدمی کر سکتے ہیں، جبکہ ماضی کے غریب دیہات سیاحت کے فروغ کی بدولت معاشی سرگرمیوں کے مراکز بن چکے ہیں۔چینی میڈیا کے مطابق یہ تمام مثالیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ چین میں ترقی صرف اعلانات تک محدود نہیں بلکہ مسلسل عملی اقدامات کے ذریعے عوامی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے پر مبنی ہے۔ یہی طرزِ عمل بڑے قومی منصوبوں کو حقیقت میں بدلنے کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔








