چین پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا، گلوبل ٹائمز کی رپورٹ

بیجنگ ۔ 3 دسمبر (اے پی پی)چین پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا جس سے ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ منگل کو عالمی جریدے گلوبل ٹائمز میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز یکم دسمبر کو ہوچکا ہے۔ توقع ہے کہ چین کو پاکستانی برآمدات کے اضافہ …

بیجنگ ۔ 3 دسمبر (اے پی پی)چین پاکستان آزادانہ تجارتی معاہدے سے پاکستان کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا جس سے ملک کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ منگل کو عالمی جریدے گلوبل ٹائمز میں اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز یکم دسمبر کو ہوچکا ہے۔ توقع ہے کہ چین کو پاکستانی برآمدات کے اضافہ سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی کی توقع ہے۔ پاکستان اور چین کے تزویراتی تعلقات کے تناظر میں پاکستان اور چین کی باہمی تجارت میں پاکستان کے تجارتی خسارہ کو کم کرنے کا موضوع انتہائی اہم ہے۔ گزشتہ سال کے دوران دونوں ممالک کی باہمی تجارت19 ارب ڈالر رہی تھی جس میں پاکستانی برآمدات کا حجم 1.8 ارب ڈالر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے ذریعے پاکستان کے تجارتی خسارہ کو کم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ اس حوالے سے چین نے پاکستان سے سوتی دھاگے’ چمڑے ‘ کپڑے کی مصنوعات اور پھلی دار اجناس سمیت دیگر مصنوعات کی برآمد پر عائد ٹیکسز میں رعایت دی ہے تاکہ پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کیا جاسکے اور ایک سڑک ایک خطے کے نظریہ کے تحت تعمیر کی جانے والی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کی تعمیر سے حقیقی طور پر استفادہ حاصل کیا جاسکے۔گلوبل ٹائمز کے مطابق زرعی شعبہ میں تعاون کے ذریعے پاکستان اور چین تجارتی خسارے کو کم کرنے کے حوالے سے پرامید ہیں کیونکہ زرعی شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی معیشت میں زرعی شعبہ کا حصہ 40فیصد ہے جبکہ چین زرعی مصنوعات درآمد کرنے والا دنیا کا بڑا ملک ہے جو سالانہ 130ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔اس وقت دونوں ممالک کے زرعی محکمہ جات نے باہمی تعاون کے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جس سے زرعی شعبہ میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دی جاسکے گی اور برآمدات کے فروغ سے پاکستان کے تجارتی خسارہ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔