چین کا اسرائیل سمیت تمام فریقین سے غزہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ

چین نے تمام فریقین خصوصاً اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں اور حقیقی و پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے اقدامات کریں۔

اقوام متحدہ۔30جون (اے پی پی):چین نے تمام فریقین خصوصاً اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں اور حقیقی و پائیدار جنگ بندی کے حصول کے لیے اقدامات کریں۔ شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو کانگ نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ امن و تحفظ ناقابلِ تقسیم ہیں اور کوئی بھی ملک دوسروں کے عدم تحفظ کی بنیاد پراپنا تحفظ یقینی نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی قبضہ اور دباؤ کبھی بھی دیرپا امن نہیں لا سکتے۔فو کانگ نے کہا کہ اسرائیل، بطور قابض طاقت، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، انسانی امداد کی فراہمی پر عائد پابندیاں ختم کرے اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے سمیت امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں میں تعاون کرے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں کشیدگی کم کرنا ضروری ہے اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔چینی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دو ریاستی حل کی حمایت کے لیے اتفاقِ رائے کو مضبوط بنائے، فلسطین کی آبادی یا سرحدی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرے، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے والے یک طرفہ اقدامات کی مخالفت کرے، اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے والی خودمختار فلسطینی ریاست کے جلد قیام کی حمایت کرے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریق فلسطینی عوام کی فلاح، مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو ترجیح دیں اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، جامع اور دیرپا حل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ چین اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔