انسانی سمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

لاہور ہائیکورٹ نے انسانی سمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزم قاصد علی کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

لاہور۔30جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے انسانی سمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزم قاصد علی کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس شہباز رضوی نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ایف آئی اے گوجرانوالہ کے مطابق ملزم قاصد علی اور شریک ملزم خادم حسین کے خلاف انسانی سمگلنگ کا مقدمہ درج ہے۔پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان نے مدعی کے بیٹے کو اسپین بھجوانے کے لیے 32 لاکھ روپے میں معاملہ طے کیا، ابتدا میں 12 لاکھ روپے اور پاسپورٹ وصول کیا، بعد ازاں نوجوان کو موریطانیہ بھجوا کر مزید آٹھ لاکھ روپے حاصل کیے۔ دورانِ تفتیش ملزم سے پانچ لاکھ روپے بھی برآمد ہوئے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نوجوان ابرار اسپین پہنچنے کے بجائے 2025 میں کشتی حادثے میں جاں بحق ہوگیا، تاہم اس کی لاش تاحال نہیں مل سکی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم کے خلاف سجاول نامی ایک اور نوجوان کے ورثا نے بھی مقدمہ درج کرا رکھا ہے جبکہ سجاول کی میت پاکستان لائی جا چکی ہے۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ شریک ملزم خادم حسین کہاں ہے، جس پر بتایا گیا کہ وہ اسی مقدمے میں جیل میں قید ہے۔ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مدعی سے باقاعدہ صلح نامہ ہو چکا ہے، اس کا تحریری حلف نامہ درخواست کے ساتھ منسلک ہے، ملزم 29 مارچ 2026 سے جیل میں ہے اور مدعی بلیک میل کرکے مزید رقم وصول کرنا چاہتے ہیں، لہذا ضمانت منظور کی جائے۔استغاثہ نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی استدعا کی۔