وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے سرحد پار آبی وسائل کے نظم و نسق کےلیے ایک پابند عالمی معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو صرف موسمیاتی یا آبی بحران کا نہیں بلکہ ’’انصاف کے بحران‘‘ کا سامنا ہے جہاں زیریں دھارے میں آباد آبادیوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور بنیادی حقوق خطرے میں ہیں ۔
کوئی پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا، ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے سرحد پار آبی وسائل کے نظم و نسق کےلیے ایک پابند عالمی معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو صرف موسمیاتی یا آبی بحران کا نہیں بلکہ ’’انصاف کے بحران‘‘ کا سامنا ہے جہاں زیریں دھارے میں آباد آبادیوں کے روزگار، غذائی تحفظ اور بنیادی حقوق خطرے میں ہیں ۔ منگل کواسلام آبادمیں ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے موسمیاتی آفات کے انسانی اثرات کو پاکستانی کسان اقبال سولنگی کی کہانی کے ذریعے اجاگر کیاجن کا خاندان سات سے آٹھ نسلوں سے کاشتکاری سے وابستہ تھا مگر بار بار آنے والے سیلابوں نے ان کی زندگی تباہ کر دی۔
انہوں نے کہا کہ اقبال سولنگی کی زرعی زمین 2010ء کے سیلاب میں تباہ ہوئی ۔ دوبارہ آباد ہونے کے بعد 2012ء میں ایک اور سیلاب نے انہیں متاثر کیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ اپنے خاندان کی کفالت کےلیے کاشتکاری چھوڑ دی مگر پانی اترنے کے بعد دوبارہ کھیتی باڑی شروع کی، تاہم 2022ء کے سیلاب نے ان کی زندگی ایک بار پھر اجاڑ دی، ان کا مویشی، گھر اور بچوں کےسکول بہہ گئے، خاندان بے گھر ہو گیا اور بالآخر انہوں نے کھیتی باڑی چھوڑ کر غالباً کراچی میں مزدوری اختیار کر لی۔مصدق ملک نے کہا کہ اقبال سولنگی کی کہانی منفرد نہیں بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے کسان زراعت اور ماہی گیری کے لیے پانی کے بہاؤ پر انحصار کرتے ہیں مگر جب پانی نہیں پہنچتا تو ماہی گیر بھوکے رہ جاتے ہیں اور کسان اپنی زمین پر کاشت نہیں کر پاتے۔
انہوں نے افریقہ کے ساحلی خطے کی خواتین کا بھی ذکر کیا جو بالائی علاقوں میں پانی کا بہاؤ رک جانے کے باعث دریاسکڑنے کے بعد روزانہ تقریباً چار میل کا سفر طے کر کے صرف ایک بالٹی پانی حاصل کرتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اسی طرح کی کہانیاں دریائے نیل، دجلہ کے دلدلی علاقوں، سابق بحیرہ ارال اور میکانگ کے طاس میں بھی ملتی ہیں، جو ایک ہی عالمی مسئلے کی مختلف شکلیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان حالات کو صرف سیلاب یا خشک سالی نہیں بلکہ ایسی صورتحال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جہاں مقامی آبادی اپنے آبی وسائل پر اختیار کھو دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خطرہ صرف پانی کی کمی یا زیادتی کا نہیں بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ پانی کے بہاؤ کو کوئی دوسرا کنٹرول کر رہا ہو۔مصدق ملک نےمرالہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اتار چڑھاؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بغیر بارش کے پانی کی مقدار 1,500 کیوسک سے بڑھ کر 78 ہزار کیوسک ہوئی اور پھر دوبارہ 1,500 کیوسک پر آ گئی جس کی واحد ممکنہ وجہ یہی ہے کہ پانی کے بہاؤ کو کوئی اور کنٹرول کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً نصف آبادی، یعنی تقریباً 12 کروڑ افراد، زراعت پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ ملکی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور پورا غذائی تحفظ پانی کی دستیابی سے وابستہ ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو صرف موسمیاتی تبدیلی یا پانی کی قلت نہیں بلکہ انصاف کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اقبال سولنگی نے نہ ڈیم تعمیر کیے، نہ کسی معاہدے کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی اس شخص کو منتخب کیا جو پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہےلیکن اس کے باوجود تباہی ان کی زندگی پر آئی۔وفاقی وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کو آبی بحران سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وہی ہمسایہ ملک جو پانی کے بہاؤ پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے، دنیا کا تیسرا بڑا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور زیریں علاقوں میں سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 برسوں میں اس کے نتیجے میں 6 ہزار افراد جاں بحق، 19 ہزار زخمی یا معذور ہوئے جبکہ 4 کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ طویل بے دخلی کے باعث تعلیم بھی شدید متاثر ہوئی اور اندازاً تین ماہ کی بے دخلی کے نتیجے میں 1.8 ارب تدریسی دن ضائع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بیرونی فیصلے نہ صرف سیلابوں کے وقت کا تعین کرتے ہیں بلکہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ پانی کب روکا جائےجس کے نتیجے میں زرعی زمینیں خشک ہو کر مستقل طور پر غیر پیداواری بن جاتی ہیں۔سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ یہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہےجو دو جوہری طاقتوں کے درمیان تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا معاہدہ بھی برقرار نہیں رہ سکتا تو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی معاہداتی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ملک یکطرفہ طور پر کسی معاہدے کو معطل یا غیر مؤثر قرار دے سکتا ہے یا اس سے دستبردار ہو سکتا ہے تو پھر بین الاقوامی معاہدوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔انہوں نے بین الاقوامی قانونی اصولPacta Sunt Servanda کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاہدوں کی پابندی لازمی ہوتی ہے اور ان کے نزدیک سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہوا بلکہ دنیا پر اس کی حقیقت آشکار ہوئی ہے۔انہوں نےمعاہدے سے متعلق بین الاقوامی عدالتی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف اوقات میں عدالتوں نے ایسے فیصلے دیے جن سے کبھی پاکستان اور کبھی ہمسایہ ملک کو فائدہ پہنچا، مگر دونوں نے ان فیصلوں کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں ایک عدالتی فیصلے نے آبی ڈھانچے کے ڈیزائن اور آپریشن کے لیے تکنیکی حدود مقرر کیں اور واضح کیا کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر یہ طے نہیں کر سکتا کہ پانی کیسے روکا یا منظم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک نے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیاجس سے بین الاقوامی قانونی اداروں کے اختیار اور عالمی قواعد پر مبنی نظام کے مستقبل پر سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی ملک کو بین الاقوامی عدالتوں اور معاہدوں کو نظر انداز کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کے اثرات پاکستان سے کہیں آگے تک جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور کوئی پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا، مگر سوال یہ ہے کہ دنیا کے باقی ممالک کا کیا ہوگا۔مصدق ملک نے کہا کہ نیدرلینڈز، پرتگال، دریائے ڈینیوب، دریائے نیل اور دیگر مشترکہ آبی نظام اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا کا تقریباً ہر ملک کسی نہ کسی دوسرے ملک کے زیریں دھارے میں واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو نظیر قائم کی جا رہی ہے وہ عملاً زیریں دھارے کے ممالک کو ان کے آبی حقوق سےمحروم کر دے گی اور اربوں افراد کو مؤثر قانونی تحفظ سے محروم چھوڑ دے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ زیریں دھارے کے ممالک کے آبی حقوق کا عالمی امتحان ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ جب تجارت اور جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے عالمی ادارے اور قانونی فریم ورک موجود ہیں تو پانی، زراعت، غذائی تحفظ اور پینے کے پانی کے لیے اسی نوعیت کے پابند عالمی قواعد کیوں موجود نہیں۔اجتماعی عالمی اقدام پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نےماہرین اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فورمز پر منظور ہونے والے غیر پابند اعلانات سے آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ ایسا عالمی معاہدہ ہونا چاہیے جس کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی نتائج ہوں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ابھی اقدام کرے، ورنہ ہمیشہ کے لیے خاموش رہنے کے لیے تیار رہے۔








