ہائیکورٹس آرٹیکل 199 کے تحت ازخود اختیارات استعمال نہیں کر سکتیں، پالیسی معاملات میں عدالتی مداخلت بھی جائز نہیں، وفاقی آئینی عدالت
ہائیکورٹس آرٹیکل 199 کے تحت ازخود اختیارات استعمال نہیں کر سکتیں، پالیسی معاملات میں عدالتی مداخلت بھی جائز نہیں، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ازخود (سو موٹو) اختیارات استعمال نہیں کر سکتیں اور انتظامی و پالیسی معاملات میں بلاجواز مداخلت عدالتی حدود سے تجاوز (جوڈیشل اوور ریچ) کے مترادف ہے۔ رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کے 27 اکتوبر اور 3 نومبر 2025ء کے احکامات کے خلاف دائر اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے مذکورہ احکامات کو جزوی طور پر کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے پولیس حکام کے خلاف ازخود کارروائی کرتے ہوئے اور پولیس کی پالیسی گائیڈ لائنز میں مداخلت کرکے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا جبکہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ کو سو موٹو اختیار حاصل نہیں۔سماعت کے دوران سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے گرفتاری اور حراست سے متعلق جاری کی گئی ہدایات دراصل 1996ء میں بھارتی سپریم کورٹ کے مشہور ڈی کے باسو کیس سے اخذ کی گئی تھیں تاہم بعد ازاں پاکستان میں پولیس آرڈر 2002، سندھ ایکٹ نمبر XI آف 2019، پولیس رولز 1934 میں 2021 کی ترامیم، ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022، آئی جی سندھ کے ایس او پیز اور دیگر ہدایات نافذ ہو چکی ہیں، اس لیے 1996ء کی گائیڈ لائنز اب قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی موقف اپنایا کہ ہائیکورٹ نے پالیسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے عدالتی حدود سے تجاوز کیا جس سے وفاقی آئینی عدالت نے اتفاق کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے وہ تمام مشاہدات اور ہدایات جو اصل آئینی درخواست کے دائرہ کار (Lis) سے باہر تھیں، برقرار نہیں رہ سکتیں تاہم عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف جاری انکوائریاں اور تحقیقات قانون کے مطابق جاری رہیں گی اور متعلقہ حکام ان کی کارروائی سندھ ہائیکورٹ کے ان مشاہدات یا ہدایات سے متاثر ہوئے بغیر مکمل کریں گے، جو عدالتی اختیار سے تجاوز پر مبنی قرار دی گئی ہیں۔








