انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس ) کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم نے کہا ہے کہ دیرپا آبی تحفظ اور علاقائی تعاون کے لئے سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔
دیرپا آبی تحفظ اور علاقائی تعاون کے لئے سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے، جوہر سلیم
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس ) کے صدر ایمبیسیڈر جوہر سلیم نے کہا ہے کہ دیرپا آبی تحفظ اور علاقائی تعاون کے لئے سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔منگل کو انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیر اہتمام جناح کنونشن سینٹر میں "سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ” کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کا بہترین راستہ بین الاقوامی قانون کے احترام، بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور ایسے اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرنے میں ہے جو ممالک کو اپنے اختلافات پُرامن طریقے سے حل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیرپا آبی تحفظ کا انحصار صرف دستیاب پانی کی مقدار پر نہیں بلکہ یقین دہانی، شفافیت، پیش بینی اور باہمی تعاون پر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔ایمبیسیڈر جوہر سلیم نے کہا کہ آبی وسائل کے مؤثر انتظام، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کے لئے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ناگزیر ہے اور سندھ طاس معاہدہ اس حوالے سے ایک مضبوط اور مؤثر بنیاد فراہم کرتا ہے۔









