ڈیجیٹلائزیشن کا بنیادی مقصد سائلین کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر کو کم سے کم کیا جا سکے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے بروقت استعمال کو یقینی بنانا ہے تاکہ سائلین کو انصاف کی فراہمی میں درپیش تاخیر کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل گورننس کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے تحت مزید پانچ نئے ڈیجیٹل سسٹمز کاافتتاح کرتے ہوئے کیا۔

لاہور۔30جون (اے پی پی):چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کے بروقت استعمال کو یقینی بنانا ہے تاکہ سائلین کو انصاف کی فراہمی میں درپیش تاخیر کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل گورننس کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے تحت مزید پانچ نئے ڈیجیٹل سسٹمز کاافتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ راجہ قمر الزمان اور ڈی جی جوڈیشل اینڈ کیس مینجمنٹ جاوید اقبال بوسال بھی موجود تھے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی اصلاحات کے ذریعے ایک ایسا ماحول قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے جہاں میرٹ اور شفافیت اولین ترجیح ہو۔ اس ڈیجیٹل انقلاب سے نہ صرف عدالتی ریکارڈ کا انتظام بہتر ہوگا بلکہ انتظامی امور میں ڈیجیٹل اصلاحات کی بدولت دفتری کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

قبل ازیں ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد نے نئے متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل سسٹمز کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ نئے لانچ ہونے والے سسٹمز میں "سیکیور جوڈیشل کمیونیکیشن سسٹم” شامل ہے، جو عدالتی مواصلات کو محفوظ اور تیز رفتار بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اسی طرح لاہور ہائیکورٹ کیوری مینجمنٹ سسٹم کو بھی فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت واٹس ایپ اور ای میل موصول ہونے والے استفسارات کو ناصرف مرکزی طور پر مربوط کیا جائے گا بلکہ موصول شدہ سوالات کی اندرونی پروسیسنگ اور حل کے عمل کو بھی تیز تر بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ خریداری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے "پرکیورمنٹ مینجمنٹ سسٹم” کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے تمام اقسام کی اشیا کی خریداری اور مالیاتی عمل میں بہتری آئے گی اورSAP سسٹم کے ساتھ منسلک ہونے کی بدولت فنڈز کی دستیابی اور استعمال کی مسلسل نگرانی یقینی ہو سکے گی۔

اس کے علاوہ "یوٹیلٹی بلز مینجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم ،”نوٹیفکیشن مینجمنٹ سسٹم”بھی ان اصلاحات کا حصہ ہے، جس سے مالیاتی نظم و ضبط، وسائل کے درست استعمال اور تیز ترین کمیونیکیشن کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ واضح رہے کہ یہ تمام اقدام کورٹس ڈیجیٹلائزیشن کے ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے مقدمات کو نمٹا نے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ان سسٹمز کی بدولت عدالتی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے، انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید خبریں