چین کا یوکرین میں فوری جنگ بندی، مذاکرات کے ذریعے بحران کے سیاسی حل پر زور

چین نے یوکرین میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا ہے ۔

اقوام متحدہ۔28جولائی (اے پی پی):چین نے یوکرین میں فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے سیاسی حل پر زور دیا ہے ۔

شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور سن لی نے یوکرین سے متعلق سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ متعدد حملوں میں دونوں جانب بھاری جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع نقصان پہنچا ہے، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح جنگ بندی اور لڑائی کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ جنگ میں مزید شدت سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فوری جنگ بندی اور لڑائی کا خاتمہ تمام متعلقہ فریقین کے بنیادی اور طویل المدتی مفاد میں ہے اور یہی عالمی برادری کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔سن لی نے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر بند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں تاکہ جلد امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ بحران کا بنیادی حل مذاکرات اور بات چیت میں ہے۔ متعلقہ فریقین کو سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اعتماد سازی، اتفاق رائے پیدا کرنے اور ایک جامع، دیرپا اور پابند امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، امن کی امید بھی برقرار رہے گی۔چینی سفارت کار نے کہا کہ روس، یوکرین اور یورپی ممالک ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں، اس لیے پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ سلامتی ہی واحد حقیقت پسندانہ راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یوکرین بحران کے حوالے سے چین کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے۔ چین جنگ بندی اور لڑائی کے خاتمے کی بھرپور حمایت کرتا ہے، روس، یوکرین اور دیگر متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے، شٹل سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے اور امن مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی بساط کے مطابق بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر بحران کے سیاسی حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔