وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس، پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری

کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیدی جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی …

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیدی جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس منگل کو یہاں وزیر اعظم ہائوس میں منعقد ہوا۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، احسن اقبال، متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان کے توانائی تحفظ کے جامع نظام کا ایک اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ریفائنریز نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کریں گی بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست ایندھن کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ ریفائنریز کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے، یورو-4 اور یورو-5 معیار کے ایندھن کی پیداوار پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کی تکمیل، فضائی آلودگی میں کمی اور عوام کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا کی کارکردگی بہتر بنانے اور مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لئےاصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ شعبہ توانائی میں مسابقت، شفافیت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد اس پر موثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے اصلاحاتی عمل کو تیز کیا جائے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالےسے ترمیمی پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کی ترویج کے لئے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روڈ شوز منعقد کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالےسے ریفائننگ پالیسی میں ترمیم کے حوالے سے وزیر پٹرولیم اور ان کی ٹیم کے کام اور کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹجک ریزروز بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس کو ملک میں آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور پالیسی پر عملدرآمد کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائنریز کے حوالے سے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 میں کی گئی ترامیم کا مقصد ماحول دوست یورو-V کی مطابقت رکھنے والے پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار کو یقینی بنانا، فرنس آئل اور کم معیار کی پٹرولیم مصنوعات میں کمی لانا ہے۔