چین کی جانب سے پاکستان کو جانوروں کے لیے ویکسین کی 300,000 خوراکوں کی فراہمی سے مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو تقویت ملی ہے
چین کی ویکسین معاونت سے پاکستان میں مویشیوں کی بیماریوں پر قابو پانے کی کوششوں کو تقویت

مزید خبریں
اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):چین کی جانب سے پاکستان کو جانوروں کے لیے ویکسین کی 300,000 خوراکوں کی فراہمی سے مویشیوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو تقویت ملی ہے جبکہ دیہی آمدن اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت کے تحفظ کے لیے بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن اور ویٹرنری سہولیات کا پائیدار نظام قائم کرنے کی ضرورت بھی اجاگر ہوئی ہے۔
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ماؤنٹین ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کے سابق سربراہ شیر احمد نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویکسینز لمپی اسکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) اور بروسیلا میلی ٹینسس پر قابو پانے میں معاونت کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔یہ اقدام معاشی لحاظ سے اہم ہے کیونکہ لائیوسٹاک پاکستان کا سب سے بڑا زرعی ذیلی شعبہ ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 26-2025کے مطابق لائیوسٹاک کا زرعی ویلیو ایڈیشن میں حصہ 62.45 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار میں 14.64 فیصد رہا جبکہ اس شعبے نے سال کے دوران 3.75 فیصد ترقی کی۔ پاکستان کی زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق ملک میں 55.86 ملین گائے بیل، 47.74 ملین بھینسیں، 44.59 ملین بھیڑیں اور 95.83 ملین بکریاں ہیں، جو مویشیوں کی بیماریوں کے خطرے سے دوچار گھریلو اور دیہی اثاثوں کے حجم کو ظاہر کرتی ہیں۔
عالمی سطح پر جانوروں کی صحت سے متعلق ادارے بیماریوں کی روک تھام کو تیزی سے ایک معاشی، غذائی تحفظ اور صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ورلڈ آرگنائزیشن فار اینیمل ہیلتھ (ڈبلیو او اے ایچ) کے مطابق ویکسینیشن، بیماری کی جلد تشخیص، حیاتیاتی تحفظ اور جانوروں کی نقل و حرکت پر کنٹرول لمپی اسکن ڈیزیز سے نمٹنے کے بنیادی اقدامات ہیں، جبکہ بروسیلوسس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماری ہے جس کے مویشی پالنے والوں کے لیے نمایاں معاشی اثرات ہوتے ہیں۔ویکسینیشن کی معاشی اہمیت صرف جانوروں کی اموات روکنے تک محدود نہیں ہے۔انہوں نے کہامویشیوں کی بیماریاں براہ راست کسانوں کی آمدن، پیداواری صلاحیت اور غذائی تحفظ میں نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
لمپی اسکن ڈیزیز دودھ کی پیداوار کم کرتی ہے، افزائش نسل کو متاثر کرتی ہے اور کھالوں کو نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ بروسیلوسس تولیدی نقصانات کا باعث بنتی ہے اور انسانوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ شیر احمد نے کہا کہ چینی معاونت کو محض ایک بار ویکسین تقسیم کرنے کی سرگرمی کے بجائے بیماریوں پر قابو پانے کے ایک منظم پروگرام کے آغاز کے طور پر لیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن بیماری کے پھیلاؤ کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے اور اسے تشخیصی ٹیسٹنگ، نگرانی، کولڈ چین مینجمنٹ، جانوروں کی شناخت اور اس منظم ریکارڈ سے منسلک ہونا چاہیے جس سے معلوم ہو سکے کہ کن ریوڑوں کو ویکسین لگائی گئی ہے۔اس طرح کے نظام کی ضرورت کو پالیسی سطح پر بھی زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے۔
پاکستان نے 25 ستمبر کو روم میں ایف اے او کے ایک اجلاس میں جانوروں کی صحت اور بیماریوں کی نگرانی میں زیادہ سرمایہ کاری پر زور دیا تھا۔ حکومت نے کہا تھا کہ وسیع تر ون ہیلتھ کوششوں کے تحت صوبوں اور خطوں کی توثیق سے ایک جدید الیکٹرانک اینیمل ڈیزیز رپورٹنگ اینڈ سرویلنس سسٹم تیار کیا جا رہا ہے۔تاہم فارم کی سطح پر بیماریوں سے بچاؤ کی ویٹرنری سہولیات تک رسائی اب بھی یکساں نہیں ہے۔اسلام آباد میں ڈیری فارم چلانے والے محمد شوکت نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ بیماریوں کے پھیلاؤ سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہم زیادہ تر اپنے نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر کسی دوسرے علاقے میں کوئی بیماری سامنے آئے تو ہم چوکس ہو جاتے ہیں اور اپنے جانوروں کو ویکسین لگواتے ہیں۔
شوکت نے کہا کہ وہ عام طور پر مقامی ویٹرنری ڈاکٹر سے مشورہ کرتے اور نجی طور پر ویکسین خریدتے ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق تقریباً 24 سے 25 جانوروں کی ویکسینیشن پر لگ بھگ 10,000 روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ایچ بی ایل زرعی سروسز کے منیجر ڈیری اینڈ لائیوسٹاک ڈاکٹر عمر نواز نے کہا کہ چین کی جانب سے ویکسین کا عطیہ دیہی سطح پر رسائی بہتر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں کسانوں کو ویکسین کی قلت اور محدود ویٹرنری سہولیات کا سامنا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں پر قابو پانے کے پروگراموں میں زیادہ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کی جانی چاہیے اور بیماریوں سے کنٹرول شدہ علاقے قائم کیے جانے چاہئیں، جنہیں بتدریج وسعت دی جا سکے، جبکہ کسانوں میں آگاہی بھی بڑھائی جانی چاہیے۔
احمد نے کہا کہ بیماریوں پر بہتر کنٹرول پاکستان کے لائیوسٹاک برآمدی عزائم میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ویکسینیشن کو جانوروں کی شناخت اور سراغ رسانی، ٹیسٹنگ، تسلیم شدہ لیبارٹریوں اور ویٹرنری سرٹیفکیشن کے ساتھ مربوط کیا جائے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان نے مالی سال 2025-26 میں 114,046 ٹن گوشت اور گوشت کی تیار مصنوعات برآمد کیں، جن کی مالیت 530.25 ملین ڈالر تھی۔ چین بھی پاکستان کی بعض منتخب گوشت کی مصنوعات کے لیے ایک بڑھتی ہوئی منڈی بن رہا ہے۔ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان نے 2025 میں چین کو 2.38 ملین کلوگرام ابلا ہوا گائے کا گوشت برآمد کیا، جس کی مالیت 14.52 ملین ڈالر تھی، جبکہ برآمدی مالیت میں سالانہ بنیاد پر 177 فیصد اضافہ ہوا۔احمد نے خبردار کیا کہ صرف ویکسینیشن برآمدی مسابقت کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا، ’’بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، سراغ رسانی، تسلیم شدہ لیبارٹریوں اور برآمدی سرٹیفکیشن کو ایک مربوط نظام کے طور پر تیار کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو تجارت سے متعلق دیگر بیماریوں، خصوصاً منہ کھر کی بیماری پر بھی زیادہ مؤثر کنٹرول کی ضرورت ہے۔ویکسین کی یہ معاونت پاکستان اور چین کے درمیان وسیع تر زرعی تعاون کا بھی حصہ ہے۔ دونوں ممالک نے مئی 2026 میں جانوروں کی ویکسین سے متعلق لیٹر آف ایکسچینج کا تبادلہ کیا تھا، جبکہ سی پیک فیز II کے تحت تعاون میں زراعت اور لائیوسٹاک کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بیماریوں پر قابو پانے کی استعداد کار بھی شامل ہے۔احمد نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ویکسین کے عطیات سے آگے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید تشخیصی نظام، لیبارٹریوں کی ترقی، بیماریوں کی ماڈلنگ اور بالآخر مقامی سطح پر ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان کو اس تعاون کو وقتاً فوقتاً ملنے والی معاونت پر انحصار کرنے کے بجائے بیماریوں پر قابو پانے کی طویل مدتی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیماریوں کی مضبوط نگرانی، قابل اعتماد ویکسینیشن کوریج اور بہتر ویٹرنری خدمات کسانوں کو قابلِ روک تھام نقصانات سے محفوظ رکھنے کے ساتھ مویشیوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور برآمدی منڈیوں میں جانوروں کی صحت سے متعلق تقاضے پورے کرنے کی پاکستان کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دیں گی۔








