چین کے جدید زرعی طریقوں اور تجربات سے استفادہ پاکستان کے لئے ضروری ہے، رانا تنویر حسین

اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو منعقد ہوا جس میں چین کے 20 رکنی وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت یوان جیان من، مشیر برائے عوامی حکومت سنکیانگ، چین نے کی جبکہ مس ما شیاولی، سربراہ سنکیانگ آئرن برادر انٹرنیشنل کمپنی بھی وفد میں شامل تھیں۔ یہ وفد …

اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منگل کو منعقد ہوا جس میں چین کے 20 رکنی وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت یوان جیان من، مشیر برائے عوامی حکومت سنکیانگ، چین نے کی جبکہ مس ما شیاولی، سربراہ سنکیانگ آئرن برادر انٹرنیشنل کمپنی بھی وفد میں شامل تھیں۔ یہ وفد 25 اگست سے 7 ستمبر 2025ء تک پاکستان کے دورے پر ہے تاکہ زرعی شعبے میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کیے جا سکیں۔وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ شراکت داری قومی غذائی تحفظ کے حصول کے لیے نہایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور چین کی معاونت اس شعبہ کو جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے ذریعہ نئی بلندیوں تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے جدید زرعی طریقوں اور تجربات سے استفادہ پاکستان کے لیے بے حد ضروری ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کو ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کی معاونت صرف ٹیکنالوجی اور میکانائزیشن میں ہی نہیں بلکہ بیجوں کی تیاری، بائیوٹیکنالوجی، فصلوں کی تنوع کاری اور پانی کے موثر استعمال میں بھی درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور چینی جامعات کے درمیان ایکسچینج پروگرامز، مشترکہ تحقیقی منصوبے اور تربیتی مواقع ناگزیر ہیں تاکہ نوجوانوں اور زرعی ماہرین کو جدید صلاحیتوں سے آراستہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے کسان محنتی اور ثابت قدم ہیں لیکن انہیں جدید آلات اور تکنیک کی ضرورت ہے۔ چین کے تعاون سے ہم اپنے کسانوں کو بااختیار بنا کر بین الاقوامی سطح پر مسابقت کے قابل بنا سکتے ہیں۔رانا تنویر حسین نے چینی وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان مشترکہ منصوبوں کے لیے مکمل ادارہ جاتی معاونت فراہم کرے گا اور چین کی کمپنیوں اور ماہرین کے لیے شفاف، سہل اور دوستانہ ماحول مہیا کیا جائے گا۔

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وفد کے مجوزہ دورہ پنجاب کے زرعی علاقوں اور گلگت بلتستان کے خصوصی اقتصادی زون برائے زراعت کے معائنے سے سرمایہ کاری اور تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ مل کر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرنے والی فصلوں کی تیاری، سمارٹ آبپاشی کے نظام کے فروغ اور زرعی صنعتوں کی ترقی پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ دیہی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور قومی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تعاون کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ زرعی اور غذائی تحفظ کے ہر میدان تک پھیلا ہوا ہے، یہ شراکت داری جامع اور دیرپا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ’آئرن برادرز‘ ہیں اور زراعت کے شعبے میں یہ تعاون دوستی اور ترقی کی ایک مثالی مثال بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نہ صرف اپنے غذائی نظام کو محفوظ بنائیں گے بلکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کے ضامن بھی ہوں گے۔ اجلاس میں وزارت کے سیکرٹری، جوائنٹ سیکریٹری، چیئرمین نیشنل سیڈ اتھارٹی، دیگر حکام اور ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی۔