اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سے پاکستان میں تعینات ایران اور یورپی یونین کے سفراءنے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ تعلقات کو فروغ دینے اور پارلیمانی و ادارہ جاتی سطح پر روابط کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینٹ سیکرٹریٹ کے مطابق ایران کے سفیر سیّد محمد علی حسینی کے ساتھ ملاقات …
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سے پاکستان میں تعینات ایران اور یورپی یونین کے سفراءکی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا سے پاکستان میں تعینات ایران اور یورپی یونین کے سفراءنے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ تعلقات کو فروغ دینے اور پارلیمانی و ادارہ جاتی سطح پر روابط کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینٹ سیکرٹریٹ کے مطابق ایران کے سفیر سیّد محمد علی حسینی کے ساتھ ملاقات میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ ثقافتی، مذہبی اور سماجی مماثلتوں میں جڑے ہوئے ہیں اور ایران کے ساتھ تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور دیگر سطح پر دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان ایران فرینڈ شپ گروپ کے کنوینئر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبدالقیوم اور گروپ کے اراکین سینیٹرز ولید اقبال، سجاد حسین طوری، ڈاکٹر جہانزیب جمالی دینی اور طلحہ محمود بھی موجود تھے۔ فرینڈ شپ گروپ کے کنوینئر سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان مسلم امہ میں اتحاد اور یگانگت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے کیونکہ اتفاق اور اتحاد سے ہی ہم مسائل کا مل کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد اور تہران کے درمیان براہ راست پروازوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ایران کے سفیر نے رابطہ کاری کی اہمیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ دونوں ممالک سماجی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی فن اور سینما کی صنعت پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے شعبہ میں بھی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے خواہاں ہیں۔ ایران کے سفیر نے ایران کی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس پر قابو پانے کےلئے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ سرحد پر مثالی تعاون کے ذریعے زائرین کو سہولت فراہم کر رہے ہیں اور تمام افراد کی مناسب سکریننگ اور سہولت فراہم کرنے کےلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے ایران کی جانب سے کشمیر کے مسئلہ پر اختیار کئے گئے مو¿قف کو سراہا۔ بعدازاں یورپی یونین کی سفیر ایند رولا کیمنارا نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے پارلیمنٹ ہاﺅس میںملاقات کی جس میں سینیٹ میں پارلیمانی لیڈران جن میں سینیٹرز مظفر حسین شاہ، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، طاہر بزنجو، سسی پلیجو، طلحہ محمود، مشاہد اللہ خان اور وزیر برائے پارلیمانی امور محمد اعظم خان سواتی بھی موجود تھے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور یورپی یونین علاقائی خوشحالی اور اقتصادی ترقی کی خاطر امن اور سلامتی کو فروغ دینے کا مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ اس ملاقات میں یورپی یونین کی سفیر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ امن و سلامتی، جمہوریت کے فروغ، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، تجارت، پائیدار ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر اہم شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور پاکستان یورپی یونین کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو تجارتی شعبے میں دی جانے والی مراعات کا ذکر کیا اور ترقیاتی شعبے میں مختلف منصوبوں کے اہم نکات سے آگاہ کیا ۔ پارلیمانی لیڈران نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر مو¿ثر انداز میں اٹھائے۔ اراکین نے تجارت، صحت، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر بھی زور دیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے اور اُمید ہے کہ مستقبل میں ایسے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن کی بدولت دوطرفہ معاونت کو مزید فروغ ملے گا۔







