ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کا سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد اور ایوان کے تقدس کے تحفظ پر زور

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد اور ایوان کے تقدس کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ قواعد کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس …

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے سینیٹ اجلاس کے دوران ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے، قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد اور ایوان کے تقدس کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ قواعد کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ ایوان کے تقدس کا خیال رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قواعد کے مطابق ایوان کی صدارت کرنے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کارروائی میں خلل ڈالنے والے رکن کے خلاف قاعدہ نمبر 246 کے تحت سخت احکامات جاری کرے حتیٰ کہ معطلی کا اختیار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈپٹی چیئرمین نے یاد دلایا کہ وہ اس حوالے سے 18 فروری 2025 کو بھی ایک واضح رولنگ دے چکے ہیں تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس کے باوجود بعض اپوزیشن اراکین مسلسل ایوان کی کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے انہیں ناپسندیدہ مگر سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔سیدال خان ناصر نے کہا کہ اگر ہم انصاف، قانون اور قواعد کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اسی ایوان کے قواعد و ضوابط کا احترام کرنا ہوگا جہاں ہم بیٹھے ہیں، باہر قانون کی بات کرنا اور ایوان کے اندر خلافِ قانون رویہ اختیار کرنا قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ متعلقہ سیاسی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کو خط بھی لکھیں گے تاکہ اپنے اراکین کو قواعد و ضوابط کے مطابق ہدایات جاری کی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک تمام اراکین برابر ہیں اور کسی کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔ڈپٹی چیئرمین نے اداروں، ملک اور قومی ہیروز کے خلاف بات کرنے پر بھی سخت پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایوان آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے تحت ہی چلے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی رولنگ کو چیلنج کیا گیا تو وہ قواعد کے مطابق کارروائی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔آخر میں انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ سینیٹ کو آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے چلایا جائے گا اور ایوان کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔