وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کئی سال سے بند صحت سہولت پروگرام کو وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو معیاری اور مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
کئی سال سے بند صحت سہولت پروگرام کو وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ شروع کر دیا گیا ،وفاقی وزیربرائےقومی صحت
اسلام آباد۔10جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کئی سال سے بند صحت سہولت پروگرام کو وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے تاکہ عوام کو معیاری اور مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اکبر نیازی ٹیچنگ ہسپتال کے دورے کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی آبادی 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، راولپنڈی اور دیگر نواحی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے رش سے متعلق شکایات موصول ہوتی ہیں، جبکہ نجی ہسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔وزیر صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی مفاد میں حکومت کی تجویز کو قبول کیاجس کے نتیجے میں کئی سال بعد صحت سہولت پروگرام کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جڑواں شہروں کے 42 ہسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں مستحق مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ پروگرام اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہوگا۔سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 30 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں جبکہ دو ارب گزشتہ پانچ ماہ کے دوران مریضوں کے علاج پر خرچ کیے جا چکےہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت تمام معلومات اور اخراجات کا ریئل ٹائم ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا خامی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کا مجموعی صحت بجٹ 1,156 ارب روپے ہےلیکن اس کے باوجود مریضوں کے اطمینان کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے حوالے سے ایک جامع مطالعہ کروایا گیا ہے جس کے مطابق تقریباً 210 ارب روپے کے وسائل سے صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے ملک بھر میں تقریباً پانچ ہزار نئے ہسپتال درکار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج مستقبل کا نظام ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک اس ماڈل پر پہلے ہی عمل پیرا ہیں۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ اگر کوئی ہسپتال پروگرام کے تحت مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا یا بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اسے فوری طور پر پروگرام سے ڈی لسٹ کر دیا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔









